Apna Punjab


A blog about Pakistan, Punjab Cultural news, Pakistan Punjab funny latest photos &mp3 and all about country In Apna Punjab By Muhammad Ehsan


Sunday, July 2, 2023

نادرا چکوال کے جھلمل ستاروں ۔کچھ عکس پنڈدادنخان بھی ہو جائے ۔۔۔

 نادرا چکوال کے جھلمل ستاروں ۔کچھ عکس پنڈدادنخان بھی ہو جائے ۔۔۔ 


تحریر ۔۔اے زیڈ عالمگیر 


گزشتہ چند دن پہلے سوشل میڈیا کے توسط سے نادرا آفس پنڈدادنخان کے باہر کچھ لوگوں جن میں ضیف العمر افراد بھی شامل تھے  گرمی میں بے حال کھڑے پایا جب کہ آفس کے  اندر سٹاف کی نیٹ پر ویڈیو دیکھتے تصاویر بھی ساتھ ہی  وائرل  ہوئیں جس سے اندازہ ہوا کہ پنڈدادنخان کے  آفس عملہ کو باہر کھڑے افراد کی تکالیف کا کتنا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔ اس موقعہ پر  راقم کو کچھ عرصہ پہلے کسی کام کے سلسلہ   میں چکوال  نادرا آفس کے عملہ سے  جو واسطہ پڑا۔۔ اور چکوال نادرا کے  عملہ کی جانب جو تعاون کیا گیا اسے ایک تقابلی جائزے کے طور پر پیش کرنے کی جسارت کی ہے  ۔۔۔



حکومتی اداروں کے قیام کا مقصد عوامی فلاح و بہبود سے وابسطہ ہوا کرتا ہے تاکہ عوامی تکالیف یا مشکلات کا ازالہ و رہنمائی کے علاوہ دیگر امور بہ طریقہ احسن سر انجام پا سکیں کسی بھی ادارے یا کمپنی کے عملہ کی نظم و نسق کی پابندی اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں مستعدی سے مقام پا کر عوامی نگاہ پسندیدگی اور زبان خلق سے کلمہ خیر نہ صرف اداروں بلکہ بلواسطہ حکومت وقت کی مقبولیت کے گراف میں بھی اضافہ کا باعث بنتا ہے ۔۔

کیوں کہ ادارے ہی حکومتی کارکردگی کے آئینہ دار ہوا کرتے ہیں ۔۔مگر ترقی پزیر ممالک میں عموما الٹی گنگا بہتی ہے ۔کیونکہ ہر ادارے کا اللہ ماشااللہ عملہ اپنی رسائی کی حد تک کمائی کے ایسے ایسے رستے نکال لیتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔ایسے ممالک میں سزا کے طور پر لہروں کی گنتی کی ڈیوٹی  سے بھی لوگ یا ملازمین کمائی کے رستے نکال لیتے ہیں عموما کسی ادارے کی منفی اثرات کی کارکردگی ادارے کے صدر دروازے پر خدمت عوام کے ماٹو آویزاں بورڈوں کا منہ چڑہاتی رہ جاتی ہے ۔ یہ کسی ایک ادارے کی بات نہیں زمانے کے دکھ کی بات ہے 

احوال واقعی کا تزکرہ مجموعی زیر قلم ہے کہ ایسے ماحول کے لنکا میں ہر کسی کو  باون گز قرار دے دینا ایک محاورتا روایتی بات ہے اگر کہیں کوئی گندی مچھلی   پورے جل کو گندہ کر کے   اداروں کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہے تو کہیں کوئی چمکتا دمکتا  ہیرا دفتری ماحول کو روشن بھی کر سکتا ہے ۔۔ایسا عنوان ہمیشہ اعلی اخلاق و کارکردگی کا مرہون منت ہوا کرتا ہے رات کی محیط تاریکی میں بھی روشنی کی کسی نہ کسی کرن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔

راقم کو ان دنوں ایمر جنسی کارڈ کے حصول کے لیئے نادرا کے ضلعی دفتر چکوال جانا ہوا اس موقع پر راقم ہم بھی پانچوں سوار دلی سے آئے ہیں کہ سکتا تھا ، اگرچہ کم درجہ کا کالم نویس ہی سہی مگر شہری اور پینڈو کے فرق کا خدشہ بھی تھا ۔اور راقم صحافیانہ جائزہ کے لیئے یہ حوالہ استعمال بھی نہیں کرنا چاہتا تھا دھڑکہ لگا رہا کہ نہ جانے نادرا کا عملہ کتنی مرتبہ کے چکروں میں ڈال کے پٹھان کی روایتی جیکٹ کی  جوں  نہ بنا دے ۔جس سے آئے دن کی تکالیف اور اخراجات کا بوجھ پڑے گا کیونکہ راقم کا گاوں چکوال کے دور افتادہ پہاڑی سلسلہ کی جنوب مشرقی سرحد پر تحصیل پنڈدادنخان کی حدود سے ملحق ہے ۔مگر وہاں پہنچ کر میرے تمام وسوے دور  اور خدشے ادارے کی دہلیز پر ہی دم توڑ کر رہ گئے ایک تو نادرا کے عملہ کو اپنے انچارج کی سرکردگی میں ہمہ تن مصروف پایا جب کہ دفتر میں نہ کوئی ہلڑ بازی اور نہ ہی روایتی اکڑ بازی دیکھی جیسے کہ گزشتہ دنوں پنڈدادنخان کے دفتر کا ذکر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ، 

اپنے کام کے بارے میں پوچھنے پر  متعلقہ شعبے کی جانب میری رہنمائی کر دی گئی جہاں ایک جواں رعنا لڑکی کو سائلین میں گھرا پایا ، خیال آیا کہ ایسی لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی کرسی یا عہدے کے زعم میں بالعموم تنک مزاج اور مغرور ہوا کرتی ہیں ، راقم دیر  تک جائزہ لیتا رہا تاکہ عرض مدعا گوش گزار کی جا سکے 

سائلین سے اس کے شائستہ برتاو نے میری تمام قیاس آرائیوں کو جھٹک دیا وہ کرسی نشیں لڑکی فرائض کی ادائیگی میں کسی روبوٹ کی طرح دکھائی دی ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ اس کا حسن سلوک اعلی اخلاق کا مظہر تھا ، ایک گھنٹہ کے جائزہ کے دورانیہ میں اس کے چہرے کی شگفتگی کے بانکپن میں ذرا بھر بھی فرق نہ پایا اس کا ماتھا  ہر قسم کی شکن سے مبرا اور شیریں لبی کے زمزموں کا اعجاز   سائلین کے دل و دماغ میں رس گھولتا رہا ، میرے خدشات ایک خوشگوار حیرت کا باعث بن چکے تھے 

دل نے کہا کہ ضروری نہیں کہ خزاں میں ہر جگہ دہتوروں کا راج ہو بلکہ بعض اقسام کے پھول بھی اپنی دل آویز مہک کے ساتھ تبسم ریز ہو سکتے ہیں 

اس سینئر سپر وائزر لڑکی کا نام  حمیرا لطیف بتایا گیا جو کہ عربی  کا لفظ ہے اور جس کے لغوی معنی "فاختہ" کے ہیں اور اہل علم و دانش نے فاختہ کو امن کا استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے اس کے کام کے بالمقابل اس کی شائستگی اور اطمینانی کیفیت کی بنا پر بلاشبہ اسے اسم بامسمی قرار دیا جا سکتا ہے اس میں نہ تو کوئی بے جا تعریف ہے اور نہ ہی کسی سپاس گزاری کا شائبہ ۔۔۔۔

کسی پبلک ڈیلنگ ادارے میں حمیرا لطیف جیسی کارکنان ہی اپنے ادارے کے لیئے باعث فخر ہوا کرتی ہیں اور  عملہ  بھی اپنے سربراہ کے نقش قدم پر چلا کرتا ہے اگر سربراہ بھی عوام کی خدمت جیسے ماٹو سے آشنا ہو گا تو یقینا عملہ بھی فرائض منصبی کو بطور خاص  ادا کر کے عوامی کلمہ خیر کا مستحق ٹہرے گا ،

اس موقع پر سٹاف کے ایک اور چمکتے دمکتے ستارے قاضی وقار حسین کی جھلملاہٹ کا تزکرہ  نہ کرنا بھی بخل ہو گا ۔ جو نہایت محنتی اور عوامی خدمت کے جزبوں سے لبریز پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مشتمل شخصیت کے مالک ہیں ۔اور ان کی انہیں صلاحیتوں کی بنا پر  آج چکوال کے تین نادرہ دفاتر میں سے ایک پر ان کو سپروائزر تعینات کیا گیا ہے اور جس میں وہ ایک خدمت سینٹر پر بزرگوں ضیعفوں اور لاٹھی پر چلنے والوں کا خود سہارہ بن کے انہیں دفتری معاملات میں مدد دیتے ہیں ۔جب کہ باقی دو دفاتر میں سے ایک کی سربراہی حمیرا لطیف کے سپرد ہے ۔۔  یقینا حمیرا لطیف جیسی محنتی مخلص اور پرعزم  کارکنان یا سربراہان ہی اداروں کی ترقی میں فعال کردار ادا کرتی ہیں 

اس وقت چکوال میں تین نادرہ دفاتر کام کر رہے ہیں اور تینوں کی سربراہی بہترین اور منجھے ہوئے عوامی خدمت کو اولیت دینے والوں نے ہی  سنبھال رکھی ہے 

ان تینوں دفاتر کا اپنے اپنے سربراہان کی صلاحیتوں کی ڈوری سے بندھا ایک ایسا گلدستہ ہے جو "" ہر گل رنگ را رنگ و بو دیگر است "" کے مصداق ہے 

اگر ہم بحیثیت مجموعی کارکردگی کو نشان راہ بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست کے لوگوں کی پریشانیوں میں کمی اور ان کا ازالہ نہ ہو پائے  ۔۔۔

پنڈدادنخان نادرہ دفتر کے سٹاف کو چکوال کے ان عوامی خدمت گاروں سے تدریس کے  ساتھ ساتھ تحصیل کی آبادی کے تناسب سے مزید ایک دفتر قائم کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سلسلہ میں تمام طبقہ ہائے فکر کو بھی پنڈدادنخان یا کھیوڑہ میں ایک اضافی دفتر کا مطالبہ دہرانا چاہیئے تاکہ موجودہ سٹاف سے بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی تکالیف کا  ازالہ بھی  ممکن ہو سکے ۔۔چیئرمین نادرا سے پنڈدادنخان کے عوام  کے لیئے  ایک اضافی دفتر کی درخواست ہے

0 comments:

Post a Comment