Apna Punjab


A blog about Pakistan, Punjab Cultural news, Pakistan Punjab funny latest photos &mp3 and all about country In Apna Punjab By Muhammad Ehsan


Tuesday, March 18, 2025

پنڈ دادن خان: ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور ممکنہ حل

تحریر: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ پنڈ دادن خان تحصیل اپنی تاریخی، صنعتی اور زراعتی حیثیت کے باوجود آج بھی تقریبا بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جہاں اس علاقے میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں، وہیں ترقیاتی کاموں میں سست روی، ذرائع آمدورفت کی زبوں حالی، سیوریج سسٹم کا ناقص نظام، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، تعلیمی اداروں کے سفری مسائل، اور مقامی کسانوں کی مشکلات سرفہرست شامل ہیں۔ یہ تحصیل صنعتی لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتی ہے، کیونکہ یہاں چند بڑے صنعتی ادارے روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ لکی سوڈا ایش پلانٹ کھیوڑہ روزگار کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ڈنڈوت سیمنٹ اور غریب وال سیمنٹ فیکٹروں جیسے ادارے بھی مقامی افراد کو کسی نہ کسی حد تک ملازمتیں فراہم کرنے میں معاون کردار نبھا رہے ہیں۔ تاہم، یہ صنعتیں تحصیل بھر کے بےروزگار نوجوانوں کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ فیکٹریوں کے علاوہ اس تحصیل میں پلاسٹک آف پیرس، بلاکس اور دیگر چھوٹے پیمانے کی فیکٹریاں بھی قائم ہیں، جو مقامی سطح پر روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ اگر حکومت اور سرمایہ کار ان صنعتوں کو فروغ دیں، ان کی پیداوار میں اضافہ کریں اور نئی چھوٹی صنعتوں کے قیام میں مدد کریں، تو اس پسماندہ تحصیل میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جو پرائیویٹ انڈسٹریاں پہلے سے قائم ہیں، ان پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کریں۔ کئی بےروزگار افراد ہنر مند ہیں لیکن کام نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اگر ان صنعتوں میں روزگار کی گنجائش بڑھائی جائے تو نہ صرف انڈسٹری کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے بھی جل سکیں گے۔ نجی صنعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مقامی ہنر مند افراد کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کریں، تاکہ بےروزگار طبقے کو روزگار میسر آ سکے اور ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ پنڈ دادن خان تحصیل کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ہے۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے، جس کے باعث یہ علاقہ ترقی کے بجائے مزید پیچھے جا رہا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جدید طریقے اپنا کر نئے واٹر سپلائی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے نئے ذرائع بھی تلاش کرے، تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ادھر تعلیمی اداروں کی کمی اور جو موجود ہیں ان میں بچوں کو سفری سہولیات کے فقدان کا بھی سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ طلبہ کو اسکول اور کالجز پہنچنے میں جہاں مشکلات کا سامنا ہے وہیں ان کے والدین کی جیبوں پر بھی بوجھ ہے۔ دیہی علاقوں کے بچوں کے لیے مناسب سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت اگر الیکٹرک بسوں کا منصوبہ بنائے یا تعلیمی اداروں کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرائے تو والدین پر اضافی مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے اور طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی بھی رہے گی۔ پنڈ دادن خان کی معیشت میں زراعت ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن مقامی کسان کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ پانی کی کمی، کھاد اور بیج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت فصلوں کی مناسب پذیرائی نہ ملنا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، سبسڈی، اور بہتر منڈیوں کی فراہمی پر توجہ دے تاکہ مقامی زراعت کو فروغ ملے اور کسان خوشحال ہو سکیں۔ یہ تمام مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں، کیونکہ ترقی محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اختیار کریں۔ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ اس حوالے سے مخلص کوششیں کرے تو یہ تحصیل ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ پنڈ دادن خان میں قدرتی وسائل، صنعتیں، اور زراعت سب کچھ موجود ہے، لیکن ان سے مکمل فائدہ نہ اٹھایا جانا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے تاکہ علاقے کو اس کا جائز مقام دلایا جا سکے اور یہاں کے عوام بھی بہتر معیارِ زندگی حاصل کر سکیں۔ غازیوں اور شہیدوں کی دھرتی اپنا کھویا وقار اور مقام مانگتی ہے۔

Thursday, January 2, 2025

ڈنڈوت آر ایس کا تفصیلی جائزہ: احسان کھنڈوعہ کی نظر سے




ڈنڈوت آر ایس، جو ڈنڈوت کے نام سے بھی معروف ہے، ضلع جہلم اور ضلع چکوال کی سرحد پر واقع ایک تاریخی مقام ہے۔ یہ علاقہ اپنی منفرد تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔


کوئلے کی کان کنی اور ریلوے اسٹیشن کا قیام


ڈنڈوت کی ابتدائی شہرت یہاں موجود کوئلے کی کانوں کی وجہ سے تھی، جہاں سے نکالے گئے کوئلے کی تجارت کے لیے 10 کلومیٹر طویل تنگ گیج (610 ملی میٹر) ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ اس ریلوے لائن کے ذریعے کوئلہ مقامی ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا جاتا تھا، جسے 1905 میں قائم کیا گیا اور مقامی زبان میں "کالا ٹیوشن" یا "کالا ٹیشن" کہا جاتا تھا۔ یہ الفاظ دراصل "کالا اسٹیشن" کا مقامی تلفظ ہیں، جو کوئلے کے پہاڑوں کی مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ "کالا" کا مطلب ان پہاڑوں کی سیاہ رنگت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ "ٹیشن" یا "ٹیوشن" مقامی زبان میں "اسٹیشن" کا غیر رسمی تلفظ ہے۔ یہی ریلوے اسٹیشن ڈنڈوت آر ایس کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں "آر ایس" ریلوے اسٹیشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ اضافہ علاقے کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے اور نقل و حمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔


سیمنٹ فیکٹری کا قیام اور صنعتی ترقی


1930 کی دہائی میں سیٹھ رام کرشن ڈالمیا نے ڈنڈوت کے علاقے میں سیمنٹ فیکٹری قائم کی، جس نے اس خطے کو صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اس سے پہلے یہ علاقہ کوئلے کی کانوں کی وجہ سے جانا جاتا تھا، جہاں کان کنوں کی محدود آبادی موجود تھی اور معیشت کا دارومدار کان کنی پر تھا۔ لیکن فیکٹری کے قیام کے بعد یہاں ایک نیا دور شروع ہوا۔ صنعتی ترقی نے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کیے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کیا۔ فیکٹری کا اصل نام "ڈالمیا" تھا، جو سیٹھ رام کرشن ڈالمیا کے نام سے منسوب تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ نام مقامی زبان میں غلط العام ہو کر "ڈالمیاں" بن گیا، جو آج بھی عوام میں رائج ہے۔ یہ تبدیلی مقامی بول چال اور زبان کی آسانی کے تحت ہوئی، لیکن اصل شناخت "ڈالمیا" ہی ہے۔


فیکٹری کے قیام کے ساتھ ہی علاقے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ہندو خاندان، جو پہلے سے موجود تھے، فیکٹری کی ملازمتوں اور کاروباری مواقع کے باعث مزید مستحکم ہوئے۔ بعد میں، دوسرے علاقوں سے بھی لوگ یہاں آ کر بسنے لگے، جس سے یہ خطہ ترقی کی جانب بڑھتا رہا۔ اس میں ایک مندر بھی تھا جو ڈالمیا کے دور میں تعمیر ہوا تھا، جو اب تو موجود نہیں ہے، لیکن اس کا ڈھانچہ وقت کے ساتھ باقی رہا ہے۔



شیریں آباد ڈنڈوت آر ایس: تعلیمی ترقی کا سنگ میل


شیریں آباد ڈنڈوت آر ایس (Shereen Abad Dandot RS) کا قیام 1945 میں سیٹھ رام کرشن ڈالمیا کے دور میں ہوا، جب انہوں نے علاقے کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ سکول قائم کیا۔ یہ سکول سیمنٹ فیکٹری کے ساتھ جڑے مزدوروں کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم فراہم کرنے کا ایک اہم قدم تھا۔ ابتدائی طور پر یہ سکول ڈالمیا کے زیر انتظام رہا اور علاقے کے تعلیمی میدان میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔


بعد ازاں، جب سیٹھ ڈالمیا نے یہ فیکٹری پارسی تاجر سیٹھ مانک کو فروخت کی، تو انہوں نے علاقے کا نام اپنی بیٹی "شیریں" کے نام پر "شیریں آباد" رکھ دیا۔ اگرچہ یہ نام زیادہ عرصہ مقامی سطح پر نہ چل سکا اور لوگ عام طور پر علاقے کو ڈنڈوت کے نام سے ہی جانتے رہے، لیکن گورنمنٹ سکولوں میں یہ نام اب بھی برقرار ہے۔


آج بھی گورنمنٹ گرلز اور بوائز سکول "شیریں آباد ڈنڈوت آر ایس" (Shereen Abad Dandot RS) کے نام سے معروف ہیں۔ یہ سکول علاقے کی تعلیمی شناخت کا حصہ ہیں اور ایک تاریخی ورثے کے طور پر اپنی اہمیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ان اداروں نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ علاقے کی ثقافتی اور سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔


اس کے علاوہ، بنیادی ضروریات میں ایک ہاسپٹل بھی بنایا گیا تھا تاکہ کارکنوں اور مقامی افراد کی صحت کا خیال رکھا جا سکے۔ ساتھ ہی سکول کے قیام کے دوران، افیسر کالونی اور برکت کالونی کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی، جنہوں نے علاقے کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ اقدامات علاقے کی مجموعی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوئے اور آج بھی ان کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔


تقسیم ہند کے بعد ڈنڈوت کا بدلتا منظرنامہ


1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد، ڈنڈوت کا علاقہ پاکستان کا حصہ بن گیا، جس کے نتیجے میں یہاں کے صنعتی اور سماجی حالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ سیٹھ رام کرشن ڈالمیا کی ملکیت میں چلنے والی سیمنٹ فیکٹری نے ابتدائی طور پر اپنا کام جاری رکھا، لیکن 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد مالی مسائل اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے سیٹھ ڈالمیا کو یہ فیکٹری فروخت کرنا پڑی۔


1953 کی دہائی میں اس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، جس کی وجہ سے یہاں ایک بڑی مسجد قائم کی گئی جو آج بھی این سی آئی کالونی کے قریب موجود ہے۔ یہ مسجد سید سیف علی شاہ صاحب کی کوششوں کا نتیجہ تھی، جو اس وقت اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز تھے اور دہلی میں اپنے رابطوں کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک عبادت گاہ بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ ان کی درخواست پر اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جس نے علاقے کی مذہبی اور سماجی اہمیت کو مزید بڑھایا۔


سید سیف علی شاہ صاحب کے علاوہ اس کام میں ان کے ہم عصروں اور دوستوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان میں راجہ منظور، ظفر اللہ بھٹی، ملک رب نواز، ملک انور بیگ، جمعدار محمد اکبر، جمعدار منیر صاحب، ذکریا شاہ صاحب، کرنل ریٹائرڈ فیروز، امداد حسین شاہ، محمد عجائب، محمد شریف (ٹائم کیپر)، عبدالکریم (ٹیلیفون آپریٹر)، سید پھول بادشاہ، اور فضل الٰہی آف سروبہ کے نام قابل ذکر ہیں، جنہوں نے اس علاقے کی ترقی اور سماجی بہبود میں اہم کردار ادا کیا۔


اس کے علاوہ، اس دور میں ایک شادی ہال بھی بنایا گیا تھا، جو آج کی تاریخ میں سیدھا حال کے طور پر موجود ہے، لیکن اس کا اصل نام اور شناخت اب مٹ چکی ہے۔ ان تمام اقدامات نے نہ صرف ڈنڈوت کی سماجی اور مذہبی زندگی کو مستحکم کیا، بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم حصہ ڈالا۔



یہ فیکٹری ایک پارسی تاجر، سیٹھ مانک جی، نے خرید لی۔ انہوں نے فیکٹری کا نام تبدیل کر کے "پاکستان پروگریسو سیمنٹ انڈسٹریز" (PPCI) رکھا اور علاقے کا نام اپنی بیٹی "شیریں" کے نام پر "شیریں آباد" رکھ دیا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ "شیریں آباد" کا نام مقامی طور پر زیادہ مقبول نہ ہو سکا، لیکن سرکاری ریکارڈ اور تعلیمی اداروں میں یہ نام آج بھی موجود ہے۔


علاقے کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے قائم گورنمنٹ سکولز، جو شیریں آباد ڈنڈوت آر ایس (Shereen Abad Dandot RS) کے نام سے جانے جاتے ہیں، آج بھی سیٹھ مانک جی کی بیٹی کے نام کی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔ یہ نام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح تقسیم ہند کے بعد کے حالات نے ڈنڈوت کے سماجی اور ثقافتی ڈھانچے پر اثر ڈالا، جو آج بھی اس علاقے کی تاریخ اور شناخت کا حصہ ہیں۔



1974ء میں نیشنلائزیشن اور نیشنل سیمنٹ انڈسٹری کا قیام


1970 کی دہائی پاکستان میں صنعتی اور معاشی تبدیلیوں کی دہائی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے معاشی نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے کئی نجی صنعتوں اور اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس نیشنلائزیشن پالیسی کا مقصد معیشت کو ریاستی کنٹرول میں لا کر عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا تھا۔


پاکستان پروگریسو سیمنٹ انڈسٹریز" (PPCI) ڈنڈوت آر ایس، جو پہلے سیٹھ مانک جی کی ملکیت میں تھی اور "پاکستان پروگریسو سیمنٹ انڈسٹریز" (PPCI) کے نام سے چل رہی تھی، بھی اس قومی تحویل کی پالیسی کے تحت 1974ء میں حکومت کے کنٹرول میں آ گئی۔ اس کا نام تبدیل کر کے "نیشنل سیمنٹ انڈسٹری" رکھا گیا۔ اسے "انڈسٹری" اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ اس کے احاطے میں تین مختلف پلانٹس موجود تھے: ایک برف بنانے کا پلانٹ، دوسرا اینٹوں کا پلانٹ، اور تیسرا سیمنٹ کا پلانٹ۔ ان تین پلانٹس کی موجودگی نے اسے ایک مکمل صنعتی مرکز کی حیثیت دی، جس کی وجہ سے اس کا نام "انڈسٹری" رکھا گیا تھا۔


نیشنلائزیشن کے اثرات


نیشنلائزیشن کے بعد فیکٹری کے انتظامی ڈھانچے میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ نجی ملکیت کے تحت چلنے والی یہ فیکٹری اب حکومتی کنٹرول میں تھی، جس کا مطلب تھا کہ اس کی پالیسی سازی، مالی معاملات، اور انتظامیہ کا پورا اختیار حکومت کے پاس تھا۔


1. انتظامی تبدیلیاں:

فیکٹری کے انتظام میں زیادہ تر سرکاری افسران شامل ہو گئے، جو نجی شعبے کی بجائے حکومتی ہدایات پر عمل کرتے تھے۔ تاہم، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی افسران کی محدود صنعتی تجربہ کاری کے باعث فیکٹری کی کارکردگی متاثر ہوئی۔



2. مزدوروں کی حالت:

نیشنلائزیشن کے بعد مزدوروں کے حقوق اور سہولیات میں بہتری آئی۔ ان کے لیے بہتر اجرت، مراعات، اور کام کے حالات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹک پیچیدگیاں اور وسائل کی کمی نے ان اقدامات کی تاثیر کو کم کر دیا۔



3. پیداواری صلاحیت:

نیشنلائزیشن کے ابتدائی برسوں میں فیکٹری کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔ ریاستی کنٹرول کے تحت انتظامی فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے تھے، جس کی وجہ سے پیداوار میں رکاوٹیں آئیں۔



4. مقامی معیشت پر اثرات:

فیکٹری کے حکومتی کنٹرول میں آنے کے بعد مقامی معیشت کو کچھ فائدہ پہنچا۔ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے گئے، اور فیکٹری کے گردونواح میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، حکومت کی محدود سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم کے مسائل نے ترقی کی رفتار کو کم کر دیا۔




انڈسٹری کی سہولیات:

اس انڈسٹری کے اندر دو رہائشی کالونیاں موجود تھیں۔ ایک پرانی کالونی، جہاں ابتدائی ملازمین اور ان کے خاندان رہائش پذیر تھے، اور ایک نئی کالونی، جسے "این سی آئی کالونی" کہا جاتا تھا اور مقامی طور پر نئی کالونی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ کالونی کے قریب ایک بڑا فٹبال گراؤنڈ بھی تھا جو ملازمین اور ان کے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔


مزید یہ کہ، فیکٹری کے احاطے میں ایک ہسپتال موجود تھا جو ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے طبی سہولیات فراہم کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہاں دو سرکاری سکول قائم کیے گئے تھے۔ ایک سکول لڑکوں کے لیے مخصوص تھا جبکہ دوسرا سکول لڑکیوں کے لیے، تاکہ دونوں کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ان سہولیات نے ملازمین کی زندگی کو آسان اور مقامی کمیونٹی کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔



زوال کا آغاز


نیشنل سیمنٹ انڈسٹری کا زوال 1980 اور 1990 کی دہائی میں نمایاں ہونا شروع ہوا۔ انتظامی مسائل، وسائل کی کمی، اور حکومتی عدم توجہ کے باعث فیکٹری کی کارکردگی گرتی گئی۔ بالآخر 1994ء میں، مالی خسارے اور حکومتی فیصلوں کی وجہ سے یہ فیکٹری بند کر دی گئی۔


تاریخی اہمیت


1974ء میں نیشنلائزیشن اور نیشنل سیمنٹ انڈسٹری کے قیام کا ڈنڈوٹ کے علاقے پر گہرا اثر رہا۔ یہ نہ صرف مقامی معیشت کے اتار چڑھاؤ کی کہانی بیان کرتی ہے بلکہ پاکستان کے صنعتی اور معاشی فیصلوں کے اثرات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ آج بھی، یہ فیکٹری اپنی تاریخ، کامیابیوں، اور ناکامیوں کے ساتھ ایک یادگار کے طور پر ڈنڈوت کی کہانی کا حصہ ہے۔



ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری: جدید دور کی صنعتی ترقی کا سنگ میل


ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری، جو 1982 میں قائم ہوئی، علاقے کی صنعتی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ ابتدا میں اسے ڈی سی سی ایل (Dandot Cement Company Limited) کے نام سے جانا جاتا تھا، لیکن موجودہ دور میں یہ فیکٹری "ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری" کے نام سے معروف ہے۔


یہ فیکٹری جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پیداوار کی علامت کے طور پر علاقے میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مختلف ادوار میں انتظامی مسائل، مالی بحران، اور دیگر چیلنجز کے باوجود فیکٹری نے اپنی بقا کو یقینی بنایا ہے اور اب بھی فعال ہے۔


اس کے علاوہ، نئی ڈنڈوت فیکٹری کے زیر انتظام ایک کلینک/ہسپتال بھی موجود ہے، جو فیکٹری کے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے۔ فیکٹری کے ساتھ جڑی ہوئی کالونی کا نام "ڈی سی سی ایل کالونی" ہے، جہاں مختلف سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ یہاں وی آئی پی بنگلے بھی موجود ہیں، جبکہ عام مزدوروں کے لیے فلیٹس اور دیگر رہائشی یونٹس بنائے گئے ہیں۔ اس کالونی میں ایک بڑا فٹ بال گراؤنڈ بھی ہے، جس کے علاوہ افسران کے لیے ایک علیحدہ ایریا موجود ہے، جہاں افسر ہاؤسز اور کھانے کے لیے مخصوص ادارے بھی ہیں۔


علاوہ ازیں، کالونی میں ایک انگلش میڈیم سکول بھی قائم ہے، جس کا نام "ورکرز ویلفیئر سکول ڈنڈوت آر ایس" ہے، جو فیکٹری کے کارکنوں کے بچوں کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ یہ سکول علاقے کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔



نیشنلائزیشن کے اثرات


نیشنلائزیشن کے بعد فیکٹری کے انتظامی ڈھانچے میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ نجی ملکیت کے تحت چلنے والی یہ فیکٹری اب حکومتی کنٹرول میں تھی، جس کا مطلب تھا کہ اس کی پالیسی سازی، مالی معاملات، اور انتظامیہ کا پورا اختیار حکومت کے پاس تھا۔


1. انتظامی تبدیلیاں:

فیکٹری کے انتظام میں زیادہ تر سرکاری افسران شامل ہو گئے، جو نجی شعبے کی بجائے حکومتی ہدایات پر عمل کرتے تھے۔ تاہم، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی افسران کی محدود صنعتی تجربہ کاری کے باعث فیکٹری کی کارکردگی متاثر ہوئی۔



2. مزدوروں کی حالت:

نیشنلائزیشن کے بعد مزدوروں کے حقوق اور سہولیات میں بہتری آئی۔ ان کے لیے بہتر اجرت، مراعات، اور کام کے حالات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹک پیچیدگیاں اور وسائل کی کمی نے ان اقدامات کی تاثیر کو کم کر دیا۔



3. پیداواری صلاحیت:

نیشنلائزیشن کے ابتدائی برسوں میں فیکٹری کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔ ریاستی کنٹرول کے تحت انتظامی فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے تھے، جس کی وجہ سے پیداوار میں رکاوٹیں آئیں۔



4. مقامی معیشت پر اثرات:

فیکٹری کے حکومتی کنٹرول میں آنے کے بعد مقامی معیشت کو کچھ فائدہ پہنچا۔ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے گئے، اور فیکٹری کے گردونواح میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، حکومت کی محدود سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم کے مسائل نے ترقی کی رفتار کو کم کر دیا۔




انڈسٹری کی سہولیات:

نیشنل سیمنٹ انڈسٹری کی اندر دو رہائشی کالونیاں قائم کی گئی تھیں۔ ایک پرانی کالونی تھی، جہاں ابتدائی ملازمین اور ان کے خاندان رہائش پذیر تھے، اور دوسری نئی کالونی تھی، جسے "این سی آئی کالونی" کہا جاتا تھا اور مقامی طور پر یہ "نئی کالونی" کے نام سے جانی جاتی تھی۔ کالونی کے قریب ایک بڑا فٹ بال گراؤنڈ بھی تھا، جو ملازمین اور ان کے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ، یہاں ایک جامع مسجد بھی واقع تھی، جو ملازمین اور ان کے خاندانوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔


مزید یہ کہ، فیکٹری کے احاطے میں ایک ہسپتال موجود تھا جو ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے طبی سہولیات فراہم کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہاں دو سرکاری سکول قائم کیے گئے تھے۔ ایک سکول لڑکوں کے لیے مخصوص تھا جبکہ دوسرا سکول لڑکیوں کے لیے، تاکہ دونوں کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ان سہولیات نے ملازمین کی زندگی کو آسان اور مقامی کمیونٹی کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔


ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری آج بھی علاقے کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ پاکستان میں سیمنٹ کی صنعت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ فیکٹری کی موجودہ حالت اس بات کا ثبوت ہے کہ باوجود مشکلات کے، یہ ادارہ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے اور ترقی کی جانب گامزن رہنے میں کامیاب رہا ہے۔


علاقائی تقسیم اور آبادی


ڈنڈوت آر ایس کی موجودہ آبادی زیادہ تر ریلوے اسٹیشن کے جنوب کی جانب ہے، جبکہ شمالی جانب دونوں سیمنٹ فیکٹریز موجود ہیں؛ پرانی نیشنل سیمنٹ فیکٹری اور نئی ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری۔


آبادی میں مختلف دھڑے بندیاں موجود ہیں۔ مغرب کی جانب چوران ایریا واقع ہے، جہاں ڈی سی سی ایل کالونی، این سی آئی کالونی، اور دیگر محلے جیسے حافظوں والا، شیخاں والا، اور ڈیرا سخی شامل ہیں۔ جنوب کی جانب کلیوال ایریا واقعہ ہے جہاں سردھی محلہ، ڈھوک شفی محلہ، محمدیہ کالونی، اور پرائیویٹ کالونی کے علاقے واقع ہیں۔


یہ تمام معلومات علاقے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں یہ علاقہ ڈنڈوت آر ایس کے نام سے ہی سرکاری اور عوامی سطح پر جانا جاتا ہے اور یہاں تقریباً ہزار سے زائد گھر موجود ہیں۔



دھڑے بندیاں اور سماجی تقسیم

ڈنڈوت کے علاقے میں مختلف برادریاں آباد ہیں، جن میں سید، شاہ، چوہدری، راجہ، ملک، شیخ، بٹ، جٹ، عوان، کھنڈوعہ، عطرال، در خان، لوہار، مسلم شیخ، راجپوت، چوہان، اور دیگر قبائل شامل ہیں۔ یہ برادریاں مقامی سیاست اور سماجی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان دھڑے بندیوں کی بنیاد اکثر برادری کے اثر و رسوخ اور مقامی سیاست میں ان کے کردار پر ہوتی ہے۔ برادریوں کے مابین اتحاد اور مقابلہ دونوں دیکھنے کو ملتے ہیں، جو کبھی کبھار تنازعات کا باعث بنتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ علاقے کی ثقافتی تنوع اور سماجی ڈھانچے کو نمایاں بھی کرتے ہیں۔



یہ مضمون اپنے علاقے اور مقامی ثقافت کے حوالے سے اہم معلومات کا احاطہ کرتا ہے، جسے چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اور اپنے بزرگوں کی رہنمائی سے مرتب کیا ہے۔ اس کا مقصد علاقے کی تاریخی اہمیت اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا اور آئندہ نسلوں تک پہنچانا ہے، تاکہ ہماری روایات، اقدار اور تاریخ کو جاندار رکھا جا سکے۔

Tuesday, December 24, 2024

قائد اعظم محمد علی جناح: ایک جامع جائزہ

 قائد اعظم محمد علی جناح: ایک جامع جائزہ

انتخاب: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ



تعارف: قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی اور مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے، جنہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی جدوجہد کی۔ ان کی زندگی ایک مشعلِ راہ ہے، جو آزادی، استقلال اور قائدانہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔


پیدائش اور ابتدائی زندگی: محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام جین محمد جناح تھا اور ان کا تعلق ایک وسطی سطح کے کاروباری خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم کراچی کے ایک اسکول میں حاصل کی، پھر بمبئی (اب ممبئی) کے گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ جناح نے 16 سال کی عمر میں انگلینڈ جا کر بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔


انگلینڈ میں تعلیم اور کیریئر کی ابتدا: انگلینڈ میں رہ کر جناح نے لندن کی مشہور Inner Temple سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور 1896 میں بیرسٹر بن گئے۔ اس دوران ان کی سیاسی دلچسپی اور ذاتی نظریات کی شکلیں بھی واضح ہوئیں۔ ان کی قانونی اور سیاست میں دلچسپی نے انہیں ہندوستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک فعال شخصیت بنایا۔


سیاسی زندگی کا آغاز: محمد علی جناح کا سیاسی سفر 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ شروع ہوا۔ ابتدا میں وہ ہندوستانی کانگریس کے حامی تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کر رہے تھے۔ لیکن جلد ہی ان کے خیالات میں تبدیلی آئی اور وہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے لگے۔


قائد اعظم کی مسلم لیگ میں شمولیت: محمد علی جناح نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ ابتدا میں وہ ایک معتدل رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے، لیکن 1920 کے عشرے میں انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت کو مضبوط بنایا۔ ان کے رہنمائی میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔


علامہ اقبال کی الہ آباد کی تقریر (1930): علامہ اقبال نے 1930 میں الہ آباد میں ایک تاریخی تقریر کی، جس میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس تقریر کو مسلم اکثریتی علاقوں میں الگ ریاست کے قیام کا ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے اور اس نے قائد اعظم محمد علی جناح کو اس وژن کو حقیقت بنانے کی ترغیب دی۔


23 مارچ 1940: قرارداد پاکستان: 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا، جس میں قائد اعظم کی قیادت میں "قرارداد پاکستان" منظور کی گئی۔ اس دن قائد اعظم کے ساتھ مسلم لیگ کے اہم رہنما شامل تھے: لیاقت علی خان، شاہ محمد سرفراز، مولانا ابوالکلام آزاد، خواجہ ناظم الدین


پاکستان کے قیام کے وقت کے عہدے داران: پاکستان کے قیام کے وقت، 14 اگست 1947 کو، قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ ان کے ساتھ اہم عہدے داران میں شامل تھے: لیاقت علی خان (وزیر اعظم)، خواجہ ناظم الدین (گورنر جنرل کے معاون)، چوہدری محمد علی (وزیر خزانہ)، سر زاہد حسین (وزیر داخلہ)، مولوی تمیز الدین (وزیر تعلیم)


پاکستان کی سرحدیں اور صوبے: پاکستان کے قیام کے وقت، ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان میں کئی صوبے شامل ہوئے: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، بنگال (بعد میں مشرقی پاکستان بن گیا، جو 1971 میں بنگلہ دیش بن گیا)، سرحدی علاقے (جیسے گلگت بلتستان)


پاکستان کے ساتھ شامل ہونے والے قبیلے: پاکستان کے قیام کے وقت مختلف قبیلے اور قومیں اس میں شامل ہوئیں، جن میں اہم قبیلے شامل تھے: پنجابی، پٹھان، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری، مہاجر (جو ہندوستان کے مختلف حصوں سے پاکستان منتقل ہوئے)


قائد اعظم کی سیاسی پارٹی اور دوست: قائد اعظم نے ابتدائی طور پر ہندوستانی کانگریس سے سیاست کا آغاز کیا تھا، جہاں ان کے قریبی دوستوں میں سر محمد شفیع اور لالہ لاجپت رائے شامل تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ مسلم لیگ میں ان کے ساتھ اہم دوست اور ساتھی تھے: لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، سر آغا خان، مولانا محمد علی جوہر


قائد اعظم کی وفات: قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا یہ سفر پاکستان کے قیام کے بعد ایک المیہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ وہ 11 ستمبر 1948 کو کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات نے پاکستان کو ایک عظیم رہنما سے محروم کر دیا، اور ان کے بعد ملک کو اپنے ابتدائی برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ قائد اعظم کی وفات نے پاکستان کے سیاستدانوں اور عوام کے دلوں میں ایک خلاء چھوڑ دیا، لیکن ان کا نظریہ اور قائدانہ صلاحیتیں آج بھی پاکستانی سیاست اور معاشرت میں رہتی ہیں۔


نتیجہ: محمد علی جناح کی زندگی ایک مثال ہے جو قوموں کو متحد کرنے، آزادی کی قیمت کو سمجھنے اور اپنی منزل تک پہنچنے کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی رہنمائی میں ہندوستان کے مسلمانوں نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی اور یہ کامیابی ایک عظیم ورثہ ہے جو پاکستان کے لیے ہمیشہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھے گا۔

Sunday, July 21, 2024

پاکستان کے 4 ٹاپ موبائل نیٹ ورک پر فائر وال کے انسٹالیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ھے

 پاکستان کے 4 ٹاپ موبائل نیٹ ورک پر فائر وال کے انسٹالیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ھے، امید ھے اگلے 4 دن تک فائر وال کا پراسس مکمل کر لیا جائے گا اس کہ بعد جیسے ہی کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی ناپسندیدہ مواد اپلوڈ ہو گا فائر وال کے زریعے اس مواد کو ہٹا بھی دیا جائے گا اور ساتھ اپلوڈ کرنے والے بندے کو بھی ٹریس کر لیا جائے گا، اس کے علاوہ یہ مواد جہاں جہاں کا سفر کر کے لاسٹ یوزر تک پہنچا ھے وہ سب ٹریس ہوں گے، 

 اس ٹیکنالوجی کے ذریعے  ایڈریس انکا آئی پی ایڈریس اور موبائل نمبر اور موجودہ لوکیشن جہاں یہ بندہ اب بیٹھا ہوا ھے وہ لوکیشن تک بتائے گی، ایف آئی اے کو تیار رہنے کا حکم دے  دیا گیا ہے۔ 

لہذا ہر دوست اپنے سوشل میڈیا مواد کو سوچ سمجھ کر اپ لوڈ کرے۔ شکریہ

اھم اعلان

محدود رہیں ۔۔۔۔ محفوظ رہیں


واٹس ایپ اور واٹس ایپ کالز کے لئے مواصلات کے نئے قواعد کل سے نافذ ہوں گے


  تمام کالز ریکارڈ کی جائیں گی اور تمام کال

 ریکارڈنگ محفوظ ہوجائیں گی۔


 واٹس ایپ فیس بک۔ ٹویٹرس انسٹاگرام اور تمام سوشل میڈیا پر نظر رکھی جائے گی۔


 آپ کے موبائل یا کمپیوٹرز ڈیویس منسٹری سسٹم سے مربوط ہوں گے۔


 کسی کو بھی غلط پیغام نہ بھیجنے کا خیال رکھیں۔


 اپنے بچوں کو بہن بھائیوں کے رشتہ دار دوستوں سے جاننے والوں کو بتائیں.......


خبردار


گروپ میں سب سے زیادہ محتاط رہیں


گروپ ممبروں کو واٹس ایپ کے نئے قواعد کے بارے میں بہت اہم معلومات


1. ✓= پیغام بھیجا گیا


2.✓✓ = پیغام پہنچا


3. دو نیلے✓✓ = پیغام پڑھا


4 تین نیلے✓✓✓ = حکومت نے اس پیغام کا نوٹس لے لیا ۔۔


5. دو نیلے✓✓ = اور ایک سرخ ✓= حکومت آپ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے


6. ایک نیلے ✓ اور دو سرخ ✓✓ = حکومت آپ کی معلومات کی جانچ کر رہی ہے


7 تین سرخ ✓✓✓ = حکومت نے آپ کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور آپ کو جلد ہی ایک عدالتی سمن مل جائے گا ..

مہنگے موبائل فون خریدنے والو اس پیغام کو ضرور پڑھیں

 مہنگے موبائل فون خریدنے والو اس پیغام کو ضرور پڑھیں 😢😢😢😢😢       

 ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے

 چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا

 ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ

 جانے کیا مانگ رہا تھا؟


 کپڑوں میں پیوند لگا تھا

 مگر

 نہایت صاف تھے

 اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے


 بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے

 اور

 وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا

 جیسے ہی وہ اٹھا

 ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا

 اور پوچھا

 اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟

 اس نے کہا کہ 

 میرے ابو مر گۓ ھیں

 ان کےلئے جنت


 میری امی ہر وقت

 روتی رہتی ھے

 اس کے لئے صبر


 میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے

 اس کے لئے رقم


 اجنبی نے سوال کیا


 کیا آب سکول جاتے ھو؟

 بچے نے کہا

 ہاں جاتا ھوں

 اجنبی نے پوچھا

 کس کلاس میں پڑھتے ھو؟

 نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا

 ماں چنے بنا دیتی ھے

 وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں

 بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں

 ہمارا یہی کام دھندا ھے

 بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا


 تمہارا کوئ رشتہ دار

 اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟

 امی کہتی ھے غریب کا کوئ رشتہ دار نہیں ھوتا

 امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی

 لیکن انکل جب ھم 

 کھانا کھا رہے ھوتےہیں

 اور میں کہتا ھوں

 امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو

 وہ کہتی ھیں میں نے

 کھالیا ھے

 اس وقت لگتا ھے

 وہ جھوٹ بول رھی ھیں.


 بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے؟

 بچہ:بالکل نہیں

 کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ھیں

 ہمیں کسی پڑھے ھوۓ نے کبھی نہیں پوچھا

 پاس سے گزر جاتے ھیں

 اجنبی حیران بھی تھا

 اور

 پریشان بھی

 پھر اس نے کہا کہ

 ہر روز اسی مسجد میں آتا ھوں

 کبھی کسی نے نہیں پوچھا

 یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے

 مگر

 ہمیں کوئی نہیں جانتا

 بچہ زور زور سے رونے لگا

 انکل جب باپ مر جاتا ھے تو سب اجنبی بن جاتے ھیں

 میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا


 ایسے کتنے معصوم ھوں گے

 جو حسرتوں سے زخمی ھیں


 بس ایک کوشش کیجۓ

 اور

 اپنے اردگرد ایسے ضروت مند

 یتیموں اور بےسہارا کو

 ڈھونڈئے

 اور

 ان کی مدد کیجئے


 موبائل اور لوڈ کے دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں


 شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ھو


 خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں جزاک اللہ

Saturday, July 20, 2024

‏بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے.

 ہوٹل کے کمرے میں محبت کا حق ادا کرنے کے بعد لڑکا اور لڑکی برہنہ حالت میں لیٹے محبت کی باتیں کررہے تھے.... لڑکا جانوں یہ لمحے بہت قیمتی ہیں چلو ایک وڈیو بناکر ان کو یادگار کے لئے قید کرلیتے ہیں.... لڑکی نہیں جان ایسے مت کرو تم وڈیو لیک کردو گے لڑکا تمہیں مجھ پر شک ہے؟ جان تمہیں میری قسم ایک وڈیو بنانے دو تمہارے سر کی قسم ڈلیٹ کردوں گا...لڑکی جان تم سر کی قسم مت دیا کرو, چلو بنالو.


‏عزت ہوٹل کے کمرے میں نیلام کرکے وہ محبوب کی یادوں میں اُڑتی گھر آکر سوگئی... یادرہے وہ گھر سے سہیلی سے ملنے کا بہانہ لگاکر گئی تھی... صبح جب وہ اُٹھی تو اُسکی وہ برہنہ وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی تھی...بھائیوں نے اُسی وقت مارکر دفن کردیا....لوگوں کو بتایا اُسے سر درد ہوا اور وہ مرگئی...ایسی لڑکیوں کو بغیر جنازے کے راتوں رات لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے....یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک سچ ہے جو ناجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے.....!!!اے بنتِ حوا گاڑیوں میں گھومنا مہنگے تحفے لینا آئی فون لینا...ہوٹلوں میں محبوب کے ساتھ کھانے کھانا تمہیں یہ دنیا بہت اچھی لگتی ہوگی....پر یاد رہے یہ ایک بھیانک دنیا ہے. اس کا انجام ذلت اس کے بعد قتل اور بغیر جنازے کے تدفین ہے...!!!!



‏بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے... آپ کو تعلیم دلوائی کسی قابل بنایا اُس باپ کی عزت کا کچرہ محبت کی آڑ میں مت کرو...اس دنیا میں سب مل جاتا ہے پر گئی عزت دوبارہ نہیں ملتی.....سنبھل جاؤ اس سے پہلے کہ لاوارث موت تمہارا مقدر بنے.

‏کاپیڈ

یہ شاگرد " البیرونی " تھے.

 استاد:-- "برائی کیا ہے؟"


شاگرد--: سر میں بتاتا ھوں مگر پہلے مجھے کچھ پوچھنا ہے- "کیا ٹھنڈ کا وجود ہے؟"


 استاد :-- "ہاں"


شاگرد:-- "غلط".

"ٹھنڈ جیسی کوئی چیز نہیں ھوتی، بلکہ یہ حرارت کی عدم دستیابی کا نام ہے."


شاگرد نے دوبارہ پوچھا:-- 

"کیا اندھیرا ہوتا ہے؟"


استاد :--  "ہاں"


شاگرد :--  "نہیں سر، اندھیرا خود کچھ نہیں ہے بلکہ یہ روشنی کی غیر حاضری ہے. جسے ھم اندھیرا کہتے ہیں- فزکس کے مطابق ھم روشنی اور حرارت کا مطالعہ تو کرسکتے ہیں مگر ٹھنڈ یا اندھیرے کا نہیں. اسی طرح برائی کا بھی کوئی وجود نہیں ہےـ 

یہ دراصل ایمان، محبت اور اللہ پر پختہ یقین کی غیرموجودگی ہےـ

جسے ھم برائی کہتے ہیں."



یہ شاگرد " البیرونی " تھے. 

یہ تو تھی وہ کفتگو جو استاد اور شاگرد کے درمیان ھوئی. 


البیرونی کے علاوہ جو دوسری تصاویر ہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں. 



یہ کھنڈر نما عمارت پنجاب کےضلع جہلم کے شہر پنڈ دادن خان میں واقع ہیں۔ یہ کھنڈر نہیں دسویں صدی کے مشہور سائنس دان “ ابوریحان البیرونی”  کی لیبارٹری ہے.

جس میں بیٹھ کرانہوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا اندازہ لگایا.


البیرونی کے مطابق :-- زمین کا قطر یعنی ڈایامیٹر 3928.77 کلو میٹر تھا 

جبکہ  ناسا کی موجودہ جدید ترین کیلکولیشن کے مطابق 3847.80  کلومیٹر ہے۔

یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_

البیرونی محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انہیں یہ لیبارٹری بنا کر دی.


ہمارے تعلیمی انحتاط کا یہ عالم ہیے کہ آج اس عظیم عجوبہ کے اطراف چند چرواہے ھی نظر آتے ہیں.

البیرونی کی وفات 1050ء میں افغانستان کے علاقے غزنی میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں.

جانتے ہیں سچ کیا ھے؟

جانتے ہیں سچ کیا ھے؟ 

ایک عورت جسے خاوند غصے میں طلاق دے اور پھر بھی اسے اپنے پاس رکھے !!
کچھ نمبرز کے لئے لڑکی پروفیسر کے بستر پر چلی جائے !!
کالجوں کی صفائی والوں کو کاغذ کے ٹکڑوں کے بجائے روزانہ جگہ جگہ سے کنڈوم ملیں !!
گرلز ہاسٹل میں ہم جنس پرستی میں مبتلا لڑکیاں !!
مدراس میں معصوم بچوں کا ریپ !!
نقاب اوڑھے جاتی لڑکی پر اس کے باپ کی عمر کا بندہ ہاتھ صاف کرے !!
دو چار چھ چھ سال کی کم سن بچیوں کے ریپ !!
سگے رشتوں سے عورت کا محفوظ نہ رہنا !!
روحانی  باپ کا  اپنی بیٹی سے  شادی کرنا (مطلب استاد اور شاگرد )
شادی شدہ عورتوں کے بچوں کی عمر  کے لڑکوں سے تعلقات !!
شادی شدہ مردوں کے اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکیوں سے تعلقات !! 
پارکوں میں سکولز کالجز کے لڑکوں کا ڈیٹ پہ جانا  !!
یونیورسٹی میں دوست کی مدد کرنے  کےلئے جسم  کی فرمائشی  کرنا !!
مغرب کی  تہذیب  اور ثقافت دیکھ کر ٹائٹ پنٹ شرٹ پہنا بال کھول کر  کالج اور یونیورسٹی جانا !!
 
کسی لڑکی کو پیار کے  جال میں پھنسا کے اسے بلیک میل کر کے اپنے دوستوں کے سامنے پیش کرنا !!!
اپنے جسم کی نمائش کرنا اور اپنے سے امیر لڑکے کی تلاش کرنا ، اس کے  ساتھ گاڑیوں میں نازیبا حرکات کرنا !!
بیٹے کی شادی اس وجہ سے نہيں کروانا کے وہ کام نہیں کرتا !!
بیٹی کے لیئے پڑا لکھا امیر لڑکا ڈھونڈنا !!
جب جسم کی بھوک لگتی ہے ناں ، تو لڑکی اور لڑکے کو پھر کسی کی عزت کا خیال نہیں رہتا!!

 آپ لوگ مجھے سچ لکھنے کا کہہ رہے ہو دماغ خراب ہوگیا ھے آپ لوگوں کا۔۔۔؟
جاؤ تم حقیقت سے دور رومانی ناول کہانیاں پڑھو  سچ  سننے اور پڑھنے کا تم لوگوں میں کہاں حوصلہ ، سچ تو کڑوا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مشال خان 


(کاپی پیسٹ)

کن وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں

 کن وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں 


1ماں باپ کی بیٹی کی زندگی میں دخل اندازی 

2)بہنیں اور بہنوئی اور کزن کی بے جا مداخلت 

3)بیوی اور شوہر کا گھنٹوں موبائل فون پر مصروف رہنا 

4)گھر سے زیادہ دیر تک گھر سے باہر رہنا ہر وقت میکے میں رہنا فضول سوشل ایکٹوٹیز میں ٹائم ضائع کرنا

5)گھر کے خرچوں میں میاں بیوی کا میانہ روی نہ رکھنا 




6)شوہر کے والدین کو عزت نہ دینا اور شوہر کو اپنے سسرال کو عزت نہ دینا

7)بیوی کی انا پرستی خاوند کو خود سےحقیر سمجھنا 

8)سب اہم مسئلہ بیوی کے حقوق کا برابر نہ ہونا 

9 عورتوں کا وہ آزاد باہر والا ٹولہ جنکے ناک پر کالا چشمہ وہ بے رونق چہریں اور کھلے ڈرائی کے یوئے بال یہی عورتیں، شریف عورتوں کے گھر برباد اور طلاقیں کراتی ہیں 

10)عورت کا آزاد خیال ہونا اور خاص کر محرم ناحرم میں تمیز کا خیال نہ ہونا طلاقوں کی وجہ بنتی ہے

11)عورت کے سوئی ہوئی سوچ اور سست ہونا گھر کا کام کاج میں بے ترتیبی یونا یعنی شوہر کے آتے ہوئے سونا، جاتے ہوئے سونا گھر اور محبت کی بربادی یے

12)ہر وقت میلے بدبو دار کپڑے میں سونا انہی کپڑوں میں اٹھنا، یہ عادت عورت کی طرف رغبت کو کھا جاتی ھے

13)ننگا سر کھلے بال، زبان درازی، بدتمیزی، بے حیائی عورت کی حیاء عزت اور مقام کو کھا جاتی ہے 

14)عورت کا ہر کسی سے گھل مل کر ہنسنا رشتوں کی تمیز نہ کرنا ہی مرد کے دل میں شک کا بیج پیدا کرنے کے برابر ہے

15) بیوی کا کہانیوں والا کتاب بغل میں اٹھا کے دوسروں کے گھر میں ہمدردیاں پیدا کرنا بھی طلاق کی وجہ بنتی ہے


کامیاب بیویاں ہمیشہ شوہروں کو اپنا سر کا تاج سمجھتی ہیں اور اپنے شوہروں کے دلوں پہ بادشاہہت کرتی ہے 

جس دن ماں اور باپ نے اپنی بیٹی کو اپنے داماد کے سامنے یہ کہا کہ بیٹی وہ گھر آپ کا اور اپکے شوہر کا ہے

 آپ اسے جنت بنائیں دوزخ نہ بنائیں ہم سے آپ کے ،،،


اور آپکے شوہر کے گھر میں مداخلت کی توقع نہ رکھیئے گا


 اس دن سے کبھی کسی بیٹی کو کوئی طلاق نہیں ہوگی

انشاءاللہ 

 #طلاقیں 

Sunday, July 2, 2023

نادرا چکوال کے جھلمل ستاروں ۔کچھ عکس پنڈدادنخان بھی ہو جائے ۔۔۔

 نادرا چکوال کے جھلمل ستاروں ۔کچھ عکس پنڈدادنخان بھی ہو جائے ۔۔۔ 


تحریر ۔۔اے زیڈ عالمگیر 


گزشتہ چند دن پہلے سوشل میڈیا کے توسط سے نادرا آفس پنڈدادنخان کے باہر کچھ لوگوں جن میں ضیف العمر افراد بھی شامل تھے  گرمی میں بے حال کھڑے پایا جب کہ آفس کے  اندر سٹاف کی نیٹ پر ویڈیو دیکھتے تصاویر بھی ساتھ ہی  وائرل  ہوئیں جس سے اندازہ ہوا کہ پنڈدادنخان کے  آفس عملہ کو باہر کھڑے افراد کی تکالیف کا کتنا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔ اس موقعہ پر  راقم کو کچھ عرصہ پہلے کسی کام کے سلسلہ   میں چکوال  نادرا آفس کے عملہ سے  جو واسطہ پڑا۔۔ اور چکوال نادرا کے  عملہ کی جانب جو تعاون کیا گیا اسے ایک تقابلی جائزے کے طور پر پیش کرنے کی جسارت کی ہے  ۔۔۔



حکومتی اداروں کے قیام کا مقصد عوامی فلاح و بہبود سے وابسطہ ہوا کرتا ہے تاکہ عوامی تکالیف یا مشکلات کا ازالہ و رہنمائی کے علاوہ دیگر امور بہ طریقہ احسن سر انجام پا سکیں کسی بھی ادارے یا کمپنی کے عملہ کی نظم و نسق کی پابندی اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں مستعدی سے مقام پا کر عوامی نگاہ پسندیدگی اور زبان خلق سے کلمہ خیر نہ صرف اداروں بلکہ بلواسطہ حکومت وقت کی مقبولیت کے گراف میں بھی اضافہ کا باعث بنتا ہے ۔۔

کیوں کہ ادارے ہی حکومتی کارکردگی کے آئینہ دار ہوا کرتے ہیں ۔۔مگر ترقی پزیر ممالک میں عموما الٹی گنگا بہتی ہے ۔کیونکہ ہر ادارے کا اللہ ماشااللہ عملہ اپنی رسائی کی حد تک کمائی کے ایسے ایسے رستے نکال لیتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔ایسے ممالک میں سزا کے طور پر لہروں کی گنتی کی ڈیوٹی  سے بھی لوگ یا ملازمین کمائی کے رستے نکال لیتے ہیں عموما کسی ادارے کی منفی اثرات کی کارکردگی ادارے کے صدر دروازے پر خدمت عوام کے ماٹو آویزاں بورڈوں کا منہ چڑہاتی رہ جاتی ہے ۔ یہ کسی ایک ادارے کی بات نہیں زمانے کے دکھ کی بات ہے 

احوال واقعی کا تزکرہ مجموعی زیر قلم ہے کہ ایسے ماحول کے لنکا میں ہر کسی کو  باون گز قرار دے دینا ایک محاورتا روایتی بات ہے اگر کہیں کوئی گندی مچھلی   پورے جل کو گندہ کر کے   اداروں کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہے تو کہیں کوئی چمکتا دمکتا  ہیرا دفتری ماحول کو روشن بھی کر سکتا ہے ۔۔ایسا عنوان ہمیشہ اعلی اخلاق و کارکردگی کا مرہون منت ہوا کرتا ہے رات کی محیط تاریکی میں بھی روشنی کی کسی نہ کسی کرن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔

راقم کو ان دنوں ایمر جنسی کارڈ کے حصول کے لیئے نادرا کے ضلعی دفتر چکوال جانا ہوا اس موقع پر راقم ہم بھی پانچوں سوار دلی سے آئے ہیں کہ سکتا تھا ، اگرچہ کم درجہ کا کالم نویس ہی سہی مگر شہری اور پینڈو کے فرق کا خدشہ بھی تھا ۔اور راقم صحافیانہ جائزہ کے لیئے یہ حوالہ استعمال بھی نہیں کرنا چاہتا تھا دھڑکہ لگا رہا کہ نہ جانے نادرا کا عملہ کتنی مرتبہ کے چکروں میں ڈال کے پٹھان کی روایتی جیکٹ کی  جوں  نہ بنا دے ۔جس سے آئے دن کی تکالیف اور اخراجات کا بوجھ پڑے گا کیونکہ راقم کا گاوں چکوال کے دور افتادہ پہاڑی سلسلہ کی جنوب مشرقی سرحد پر تحصیل پنڈدادنخان کی حدود سے ملحق ہے ۔مگر وہاں پہنچ کر میرے تمام وسوے دور  اور خدشے ادارے کی دہلیز پر ہی دم توڑ کر رہ گئے ایک تو نادرا کے عملہ کو اپنے انچارج کی سرکردگی میں ہمہ تن مصروف پایا جب کہ دفتر میں نہ کوئی ہلڑ بازی اور نہ ہی روایتی اکڑ بازی دیکھی جیسے کہ گزشتہ دنوں پنڈدادنخان کے دفتر کا ذکر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ، 

اپنے کام کے بارے میں پوچھنے پر  متعلقہ شعبے کی جانب میری رہنمائی کر دی گئی جہاں ایک جواں رعنا لڑکی کو سائلین میں گھرا پایا ، خیال آیا کہ ایسی لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی کرسی یا عہدے کے زعم میں بالعموم تنک مزاج اور مغرور ہوا کرتی ہیں ، راقم دیر  تک جائزہ لیتا رہا تاکہ عرض مدعا گوش گزار کی جا سکے 

سائلین سے اس کے شائستہ برتاو نے میری تمام قیاس آرائیوں کو جھٹک دیا وہ کرسی نشیں لڑکی فرائض کی ادائیگی میں کسی روبوٹ کی طرح دکھائی دی ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ اس کا حسن سلوک اعلی اخلاق کا مظہر تھا ، ایک گھنٹہ کے جائزہ کے دورانیہ میں اس کے چہرے کی شگفتگی کے بانکپن میں ذرا بھر بھی فرق نہ پایا اس کا ماتھا  ہر قسم کی شکن سے مبرا اور شیریں لبی کے زمزموں کا اعجاز   سائلین کے دل و دماغ میں رس گھولتا رہا ، میرے خدشات ایک خوشگوار حیرت کا باعث بن چکے تھے 

دل نے کہا کہ ضروری نہیں کہ خزاں میں ہر جگہ دہتوروں کا راج ہو بلکہ بعض اقسام کے پھول بھی اپنی دل آویز مہک کے ساتھ تبسم ریز ہو سکتے ہیں 

اس سینئر سپر وائزر لڑکی کا نام  حمیرا لطیف بتایا گیا جو کہ عربی  کا لفظ ہے اور جس کے لغوی معنی "فاختہ" کے ہیں اور اہل علم و دانش نے فاختہ کو امن کا استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے اس کے کام کے بالمقابل اس کی شائستگی اور اطمینانی کیفیت کی بنا پر بلاشبہ اسے اسم بامسمی قرار دیا جا سکتا ہے اس میں نہ تو کوئی بے جا تعریف ہے اور نہ ہی کسی سپاس گزاری کا شائبہ ۔۔۔۔

کسی پبلک ڈیلنگ ادارے میں حمیرا لطیف جیسی کارکنان ہی اپنے ادارے کے لیئے باعث فخر ہوا کرتی ہیں اور  عملہ  بھی اپنے سربراہ کے نقش قدم پر چلا کرتا ہے اگر سربراہ بھی عوام کی خدمت جیسے ماٹو سے آشنا ہو گا تو یقینا عملہ بھی فرائض منصبی کو بطور خاص  ادا کر کے عوامی کلمہ خیر کا مستحق ٹہرے گا ،

اس موقع پر سٹاف کے ایک اور چمکتے دمکتے ستارے قاضی وقار حسین کی جھلملاہٹ کا تزکرہ  نہ کرنا بھی بخل ہو گا ۔ جو نہایت محنتی اور عوامی خدمت کے جزبوں سے لبریز پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مشتمل شخصیت کے مالک ہیں ۔اور ان کی انہیں صلاحیتوں کی بنا پر  آج چکوال کے تین نادرہ دفاتر میں سے ایک پر ان کو سپروائزر تعینات کیا گیا ہے اور جس میں وہ ایک خدمت سینٹر پر بزرگوں ضیعفوں اور لاٹھی پر چلنے والوں کا خود سہارہ بن کے انہیں دفتری معاملات میں مدد دیتے ہیں ۔جب کہ باقی دو دفاتر میں سے ایک کی سربراہی حمیرا لطیف کے سپرد ہے ۔۔  یقینا حمیرا لطیف جیسی محنتی مخلص اور پرعزم  کارکنان یا سربراہان ہی اداروں کی ترقی میں فعال کردار ادا کرتی ہیں 

اس وقت چکوال میں تین نادرہ دفاتر کام کر رہے ہیں اور تینوں کی سربراہی بہترین اور منجھے ہوئے عوامی خدمت کو اولیت دینے والوں نے ہی  سنبھال رکھی ہے 

ان تینوں دفاتر کا اپنے اپنے سربراہان کی صلاحیتوں کی ڈوری سے بندھا ایک ایسا گلدستہ ہے جو "" ہر گل رنگ را رنگ و بو دیگر است "" کے مصداق ہے 

اگر ہم بحیثیت مجموعی کارکردگی کو نشان راہ بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست کے لوگوں کی پریشانیوں میں کمی اور ان کا ازالہ نہ ہو پائے  ۔۔۔

پنڈدادنخان نادرہ دفتر کے سٹاف کو چکوال کے ان عوامی خدمت گاروں سے تدریس کے  ساتھ ساتھ تحصیل کی آبادی کے تناسب سے مزید ایک دفتر قائم کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سلسلہ میں تمام طبقہ ہائے فکر کو بھی پنڈدادنخان یا کھیوڑہ میں ایک اضافی دفتر کا مطالبہ دہرانا چاہیئے تاکہ موجودہ سٹاف سے بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی تکالیف کا  ازالہ بھی  ممکن ہو سکے ۔۔چیئرمین نادرا سے پنڈدادنخان کے عوام  کے لیئے  ایک اضافی دفتر کی درخواست ہے