بابائے محنت کشاں قاضی محمد فاروق کےگزرےپل
"یکم جون 2023 کو ان کی 13 ویں برسی تھی جو خاموشی سے گزر گئی۔۔اپنے استاد محترم کی شخصیت کے نام چند الفاظ پیش خدمت ہیں۔
تحریر :: اورنگزیب عالمگیر۔۔۔
للہ کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والے قاضی نور محمد کے چشم وچراغ 'قاضی محمد فاروق جن کا بچپن للہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا گورنمنٹ للہ ہائی سکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حصول روزگار کے لئے انہوں نے نیشنل سیمنٹ فیکٹری کا رخ کیا ،قاضی محمد فاروق ایک تحریک ، ایک شخصیت ایک انجمن ،اردو اور پنجابی کے انقلابی شاعر منفرد انداز تحریر کے کالم نویس،سماجی اور مذھبی موضوعات پر بولنے کی استعداد رکھنے والے شعلہ بیاں مقرر اور معاشی انصاف کے لیئے سوشلزم کے علمبردار کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے ۔
قاضی محمد فاروق نے 1952 سے لے کر 1993 تک تقریبا چالیس سال نیشنل سیمنٹ فیکٹری میں اپنے فرائض منصبی کو بخوبی سر انجام دیا ۔26 سال تک سی بی اے یونین کے جنرل سیکریٹری کے طور پر اپنی پہچان کرائی ایوب خان کے دور میں دو مرتبہ بی ڈی ممبر منتخب ہوئے جبکہ بدقسمتی سے ٹاس ھارنے کی وجہ سے چیئر مین نہ بن سکے، ایوب خان سے پرویز مشرف تک ان کے دورآمریت کے سخت مخالف رہے ۔ایوب کے دور میں سابق گورنر پنجاب چوھدری الطاف حسین (مرحوم) کے ہمراہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو نہ صرف ووٹ دیئے بلکہ کھیوڑہ پنڈدادنخان اور گردو نواح میں آمریت کے خلاف شعلہ بیانی کے فرائض بھی خوب سنبھالے ۔ ان اجتماعات میں ان کے ھمراہ چوھدری الطاف حسین ،ملک شہباز خان ایڈوکیٹ ( مرحوم) اور جماعت اسلامی کے تحصیل صدر مرزا حبیب اللہ بھی ان کے شانہ بشانہ آمریت کو للکارتے رہے۔ چوھدری الطاف حسین ان کے انداز خطابت اور اصول پسندی کے بڑے قدر داں تھے
ضیاالحق کے دور میں آٹھ سال تک ہر دو سال بعد فیڈریشن آف آل ہاکستان سیمنٹ یونین کے صدر منتخب ہوتے رھے ۔علاقہ میں بعض یونینز کی تشکیل کی وجہ سے چار مقدمات میں ملوث کئے گئے لیکن باعزت بری ھوئے ان کو یونین کے عرصہ میں کئی بار اسسٹنٹ مینجر کے عہدوں کی آفرز کی گئیں ایک دفعہ تو ان کی کابینہ کی موجودگی میں مینجنگ ڈائریکٹر نے ان کا ڈپٹی مینجر کا آفس آرڈر ٹائپ کروایا مگر آپ نے وصول کرنے سے انکار کر دیا ۔۔اور ڈائریکٹر سے مخاطب ھوتے ھوئے کہا کہ اگر آج میں نے ڈپٹی مینجر کی سیٹ سنبھال لی تو میری دھرتی اور اس ادارے کے محنت کشوں کےحقوق کی جنگ کون لڑے گا ۔۔کون ان کی محنت اور خون پسینے سے شرابور شب وروز کی قیمت کا دفاع کرے گا ۔۔آپ ان دنوں سپروائزر کے طور پر کام کرتے تھے.۔آخری ڈیڑھ سال کی سروس میں ان کے دوست ورکس مینجر حلیم قریشی نے ان کو نئے ایم ڈی کی طرف سے اسسٹنٹ مینجر کے پروموشن آرڈرز دکھائے ، مگر انکار ہوا اس مرد قلندر نے پوری سروس کے دوران اپنے بیٹے کو بھرتی نہ کروایا حالانکہ کئی بار ان کو آفرز کی گئیں لیکن آپ نے کہا کہ میں اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا اپنے علاقہ کے ان گنے چنے چند مزدور رہنماوں میں شمار کیئے جاتے تھے جنہوں نے نیشنل سیمنٹ فیکٹری کے غیر مستقل ملازمین کے حقوق کی لڑائی لڑ کر انہیں ایک ماہ کی سالانہ چھٹیاں ،تہواری تعطیلات کی ادائیگی اور ایک ماہ کے بونس کا حق دلوایا ۔محنت کشوں کے حقوق کے اس سالار اعظم نے ھمیشہ مزدور کے تحفظ کو اولیت دی۔
حالانکہ انہیں کئی بار فیکٹری حکام کی جانب سے پرکشش مراعات کی آفرز ہوئیں لیکن قاضی نے ھر بار ان آفرز کو جوتوں کی نوک پر رکھا
قاضی محمد فاروق مذدوروں کی ایک توانا آواز تھے وہ ہمیشہ محنت کشوں کے حقوق کے لئے سرگرم رھتے
ان کی بلند آواز انتظامی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیتی ۔ سٹیج کی جانب بڑھتے ان کے قدموں کی چاپ ہر آفیسر کے دل پر کسی ہھتوڑے کی مانند بجنے لگتی ۔۔اور ان کے ماتھوں پر پسینوں کی قطرے صاف نمایاں ھو جاتے ۔۔ان کے جوش خطابت کا انداز بھٹو مرحوم سے بہت مشابہت رکھتا تھا یہئ وجہ تھی کہ وہ جب بھی سٹیج کی طرف جاتے تو راستے کے کانٹے بھی ان کے لئے پلکیں جھکا لیتے ۔۔بہت سے مخالفین چوری چھپے ان کی تقریریں سنا کرتے ۔۔آپ کی عظمت کی دلیل اس سے صاف ظاھر ہوتی کہ دشمن بھی ایسے وقت آپ پر گل پاشی کرتے ہی نظر آتے ۔۔تحصیل پنڈدادنخان میں شاعروں کی مستقل بنیاد رکھی جو کھیوڑہ کے معروف شاعر ملک عظمت حیات کی زیر نگرانی ان کے زندہ رھنے تک جاری رھی۔پاکستان کے مشہور باغی شاعر حبیب جالب کو کھیوڑہ میں دو دفعہ بلوانے کا سہرا بھی قاضی کے سر ھے 1970 سے لے کر 1974 تک پیپلز پارٹی تحصیل پنڈدادنخان کے جنرل سیکریٹری اور صدر بھی رہے لیکن نہ تو فیکٹری یونین سے اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھایا۔۔جس دن سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو (شہید)کو ھائی کورٹ سے سزائے موت کے آرڈرز جاری ھوئے اسی دن ان کو بھی گرفتار کر کے تین ماہ کے لئے ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں نظر بند کر دیا گیا مگر ہائی کورٹ میں رٹ داخل کرنے کی وجہ سے مارشل لا حکام نے ایک ماہ بعد انہیں رہا کر دیا آپ نے جتنی تقاریر پیپلز پارٹی کے لئے تحصیل بھر میں کیں اس کی مثال آج تک کہیں نہ مل سکی۔۔ کیونکہ ان جیسا شعلہ بیاں مقرر آج تک اس پارٹی کو دستیاب نہ ہو سکا ۔۔اکثر سیاسی جماعتیں دعوی کرتی ہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کا خیال رکھتی ہیں لیکن قاضی محمد فاروق کے معاملے میں یہ محض ایک دعوی ہی ثابت ھوا ۔ساری زندگی محنت کشوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے قاضی محمد فاروق بالاخر اپنی بیماری اور کسمپرسی حالات سے جنگ کرتے کرتے یکم جون 2010 کو اس دنیا فانی سے رخصت ھو گئے ۔ یکم جون 2023 کو ان کی برسی خاموشی سے گزر گئی ۔۔ ان کی برسی کے حوالے سے گزرا دن شاید ہی ان کی پارٹی کے علاوہ علاقہ بھر کے محنت کشوں اور ان کے رھنماوں کے دلوں پر کوئی دستک دے پایا ہو ؟؟۔۔
مرحوم قاضی کو مزدوروں کے لئے ساری زندگی عملی جدوجہد کرنے پر انہیں بابائے محنت کشاں کے لقب سے بھی نوازا گیا قاضی محمد فاروق نے ساری زندگی محنت کشوں کے حقوق کے دفاع اور ان کے بہتر معیار کے لئے شب وروز محنت کی اور ہر دور میں استحصالی انتظامیہ کے سامنے کسی سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔۔۔لیکن افسوس کہ انڈسٹریز کے اس منافقانہ سسٹم نے ان کو آخری ایام میں سوائے پنشن کے اور کوئی سہارا نہ دیا ، ان کا ایک ہی بیٹا تھا جسے عمر فاروق کہتے تھے جو ساری زندگی بے روزگار رہا ، شاید اسے بھی قاضی کے پختہ اصولوں کی سزا ملی ۔۔
آپ محنت کشوں کے لئے خون جگر سے بھگو بھگو کر اپنے الفاظ صفحہ قرطاس پر بکھیرا کرتے تھے ۔۔
ان کا ایک مشہور قطعہ آج بھی محنت کشوں کی عظمت کی گواھی دیتا ھے۔۔۔وہ کہتے تھے کہ
یہ چمنی کا دھواں تیری آہوں کا امیں ھے ۔۔
افسوس مگر محنت کے لٹیروں کو نہیں ہے ۔۔
قاضی شب ظلمت کی ردا پھاڑ کے دیکھو ۔۔
ابھرے گا سویرا مجھ کو یہ یقیں ھے ۔۔
اور ایک جگہ مہنگائی کے حوالے سے یوں گویا ھوئے۔۔۔۔
کیا روشنی ھوئی، کہ اجالا نہ مل سکا۔۔
غربت کو بھی دیس نکالا نہ مل سکا ۔۔ ۔۔
یوں کھو گئےھیں منزل مقصود کے نشاں۔۔۔
تاریخ میں بھی کوئی حوالہ نہ مل سکا ۔۔
اسی طرح کسی عید قرباں پر بھی ان کا ایک نایاب قطعہ لکھا
اور یوں گویا ہوئے
امن کی جستجو ہے اور سر پر۔۔۔
۔گھنٹیاں بج رہی ہیں خطرے کی
اور عید قرباں بھی آ پہنچی ہے
اپنی قربانی کروں کہ بکرے کی
بحرحال ایک بات روز روشن کی طرح عیاں رھے گی کہ للہ کے اس عظیم مزدور رہنما نے نہ تو کوئی جاگیر بنائی نہ اس کے پاس کوئی فور ڈور گاڑی تھی نہ یہ کسی بنگلے یاکوٹھی کا مالک نکلا اور نہ ہی اس نے کسی فائیو سٹار ھوٹل کے کھانوں کے کبھی ذائقہ چکھا ،اور تو اور فیکٹری کے کسی ٹھیکہ میں بھی ان کا نام کہیں درج نہ دیکھا گیا ۔۔ آخری ایام میں اکھڑی اکھڑی سانسوں کے دوران بھی اپنے مزدور بھائیوں اور بچوں کے مسائل کے خاتمے کے لئے قلمی جہاد میں مصروف رھے۔ ۔۔۔۔بھلے ہی کوئی پارٹی ،محنت کش یا ان کے رہنما ،قاضی مرحوم کی محنت کشوں کے حقوق اور پارٹی مفادات کے لئے کی گئی جنگ کے گزرے لمحات بھلا دیں۔ لیکن محنت کشوں کے حقوق کے اس عظیم کردار کو ہمیشہ بابائے محنت کشاں کے نام سے یاد رکھا جائے گا اور تاریخ کے اوراق میں ان کا نام سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا۔۔ ۔۔


