Apna Punjab


A blog about Pakistan, Punjab Cultural news, Pakistan Punjab funny latest photos &mp3 and all about country In Apna Punjab By Muhammad Ehsan


Tuesday, June 27, 2023

بابائے محنت کشاں قاضی محمد فاروق کےگزرےپل

 بابائے محنت کشاں قاضی محمد فاروق کےگزرےپل

"یکم جون 2023 کو ان کی 13 ویں برسی تھی  جو خاموشی سے گزر گئی۔۔اپنے استاد محترم کی شخصیت  کے نام چند الفاظ پیش خدمت ہیں۔ 

 

تحریر :: اورنگزیب عالمگیر۔۔۔



للہ کے ایک معزز گھرانے  سے تعلق رکھنے والے قاضی نور محمد کے چشم وچراغ 'قاضی محمد فاروق جن کا بچپن للہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا گورنمنٹ للہ ہائی سکول سے  میٹرک تک تعلیم  حاصل کرنے کے بعد حصول روزگار کے لئے انہوں نے  نیشنل سیمنٹ فیکٹری کا رخ کیا ،قاضی محمد فاروق  ایک تحریک ، ایک شخصیت ایک انجمن ،اردو اور پنجابی کے انقلابی شاعر منفرد انداز تحریر کے کالم نویس،سماجی اور مذھبی موضوعات پر بولنے کی استعداد رکھنے والے شعلہ بیاں مقرر اور معاشی انصاف کے لیئے سوشلزم کے علمبردار کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے ۔ 

قاضی محمد فاروق نے 1952 سے لے کر 1993 تک تقریبا چالیس سال نیشنل سیمنٹ فیکٹری میں اپنے فرائض منصبی کو بخوبی  سر انجام دیا ۔26 سال تک سی بی اے یونین کے جنرل سیکریٹری کے طور پر اپنی پہچان کرائی ایوب خان کے دور میں دو مرتبہ بی ڈی ممبر منتخب ہوئے جبکہ بدقسمتی سے ٹاس ھارنے کی وجہ سے چیئر مین نہ بن سکے، ایوب خان سے پرویز مشرف تک  ان کے دورآمریت کے سخت مخالف رہے ۔ایوب کے دور میں  سابق گورنر پنجاب چوھدری الطاف حسین (مرحوم) کے ہمراہ  مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو نہ صرف ووٹ دیئے بلکہ کھیوڑہ پنڈدادنخان اور گردو نواح میں آمریت کے خلاف شعلہ بیانی کے فرائض بھی خوب  سنبھالے ۔ ان اجتماعات میں ان کے ھمراہ چوھدری الطاف حسین ،ملک شہباز خان ایڈوکیٹ ( مرحوم) اور جماعت اسلامی کے تحصیل صدر مرزا حبیب اللہ بھی ان کے شانہ بشانہ آمریت کو للکارتے رہے۔ چوھدری الطاف حسین ان کے انداز خطابت اور اصول پسندی کے بڑے قدر داں تھے 

ضیاالحق کے دور میں آٹھ سال تک ہر دو سال بعد فیڈریشن آف آل ہاکستان سیمنٹ یونین کے صدر منتخب ہوتے رھے ۔علاقہ میں بعض یونینز کی تشکیل کی وجہ سے چار مقدمات میں ملوث کئے گئے لیکن باعزت بری ھوئے ان کو یونین کے عرصہ میں کئی بار اسسٹنٹ مینجر کے عہدوں کی آفرز کی گئیں ایک دفعہ تو ان کی کابینہ کی موجودگی میں  مینجنگ ڈائریکٹر نے ان کا ڈپٹی مینجر کا آفس آرڈر ٹائپ کروایا مگر آپ نے وصول کرنے سے انکار کر دیا ۔۔اور ڈائریکٹر سے مخاطب ھوتے ھوئے کہا کہ اگر آج میں نے ڈپٹی مینجر کی سیٹ سنبھال لی تو میری دھرتی اور اس ادارے کے محنت کشوں کےحقوق کی  جنگ کون لڑے گا ۔۔کون ان کی محنت اور خون پسینے سے شرابور شب وروز کی قیمت کا دفاع کرے گا ۔۔آپ ان دنوں سپروائزر کے طور پر کام کرتے تھے.۔آخری ڈیڑھ سال کی سروس میں ان کے دوست ورکس مینجر حلیم قریشی نے ان کو نئے ایم ڈی کی طرف سے اسسٹنٹ مینجر کے پروموشن آرڈرز دکھائے ، مگر انکار ہوا اس مرد قلندر نے پوری سروس کے دوران اپنے بیٹے کو بھرتی نہ کروایا حالانکہ کئی بار ان کو آفرز کی گئیں لیکن آپ نے کہا کہ میں اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا اپنے علاقہ کے ان گنے چنے چند  مزدور رہنماوں میں  شمار کیئے جاتے تھے جنہوں نے نیشنل سیمنٹ فیکٹری کے غیر مستقل ملازمین کے حقوق کی لڑائی لڑ کر انہیں ایک ماہ کی سالانہ چھٹیاں ،تہواری تعطیلات کی ادائیگی اور ایک ماہ کے بونس کا حق  دلوایا ۔محنت کشوں کے حقوق کے اس سالار اعظم نے ھمیشہ مزدور کے تحفظ کو اولیت دی۔ 

حالانکہ انہیں کئی بار  فیکٹری حکام کی جانب سے پرکشش مراعات کی آفرز ہوئیں لیکن قاضی نے ھر بار ان آفرز کو جوتوں کی نوک پر رکھا 

قاضی محمد فاروق مذدوروں  کی ایک توانا آواز تھے وہ ہمیشہ محنت کشوں کے حقوق کے لئے سرگرم رھتے 

ان کی بلند  آواز انتظامی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیتی ۔ سٹیج کی جانب بڑھتے  ان کے قدموں کی چاپ ہر آفیسر کے دل پر کسی  ہھتوڑے کی مانند بجنے لگتی ۔۔اور ان کے ماتھوں پر پسینوں  کی قطرے صاف نمایاں ھو جاتے ۔۔ان کے جوش خطابت کا انداز بھٹو مرحوم سے بہت مشابہت رکھتا تھا یہئ وجہ تھی کہ وہ جب  بھی سٹیج کی طرف جاتے تو راستے کے کانٹے بھی ان کے لئے پلکیں جھکا لیتے ۔۔بہت سے مخالفین  چوری چھپے ان کی  تقریریں سنا کرتے ۔۔آپ کی عظمت کی دلیل اس سے صاف ظاھر ہوتی کہ دشمن بھی ایسے وقت آپ پر گل پاشی کرتے ہی  نظر آتے ۔۔تحصیل پنڈدادنخان میں شاعروں کی مستقل بنیاد رکھی جو کھیوڑہ کے معروف شاعر ملک عظمت حیات  کی زیر نگرانی ان کے  زندہ رھنے تک جاری رھی۔پاکستان کے مشہور  باغی شاعر حبیب جالب کو کھیوڑہ میں دو دفعہ بلوانے کا سہرا بھی قاضی کے سر ھے 1970 سے لے کر 1974 تک پیپلز پارٹی تحصیل پنڈدادنخان کے جنرل سیکریٹری اور صدر بھی  رہے لیکن نہ تو فیکٹری یونین سے اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھایا۔۔جس دن سابق وزیر اعظم  ذوالفقار  علی بھٹو (شہید)کو ھائی کورٹ سے سزائے موت کے آرڈرز جاری ھوئے اسی دن ان کو بھی گرفتار کر کے تین ماہ کے لئے ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں نظر بند کر دیا گیا مگر ہائی کورٹ میں رٹ داخل کرنے کی وجہ سے مارشل لا حکام نے ایک ماہ بعد انہیں رہا کر دیا آپ نے جتنی تقاریر پیپلز پارٹی کے لئے تحصیل بھر  میں کیں اس کی مثال آج تک کہیں  نہ مل سکی۔۔  کیونکہ ان جیسا شعلہ بیاں مقرر آج تک اس پارٹی کو دستیاب نہ ہو سکا ۔۔اکثر سیاسی جماعتیں دعوی کرتی ہیں  کہ وہ اپنے کارکنوں کا خیال رکھتی ہیں لیکن قاضی محمد فاروق کے معاملے میں یہ محض ایک دعوی ہی ثابت ھوا ۔ساری زندگی محنت کشوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے قاضی محمد فاروق  بالاخر  اپنی بیماری اور کسمپرسی حالات سے جنگ کرتے کرتے یکم جون 2010 کو  اس دنیا فانی  سے رخصت ھو گئے ۔ یکم جون 2023 کو ان کی برسی خاموشی سے گزر گئی ۔۔ ان کی برسی کے حوالے سے گزرا   دن شاید ہی ان کی  پارٹی کے علاوہ علاقہ بھر کے  محنت کشوں  اور ان کے رھنماوں کے دلوں پر کوئی دستک دے پایا ہو ؟؟۔۔

 مرحوم قاضی کو مزدوروں  کے لئے ساری زندگی عملی جدوجہد کرنے پر انہیں بابائے محنت کشاں کے لقب سے بھی  نوازا گیا  قاضی محمد فاروق نے ساری زندگی   محنت کشوں کے حقوق کے دفاع اور ان کے بہتر معیار کے لئے شب وروز محنت کی اور ہر دور میں  استحصالی انتظامیہ کے سامنے کسی سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔۔۔لیکن افسوس کہ  انڈسٹریز  کے اس منافقانہ سسٹم نے ان کو آخری ایام میں سوائے پنشن کے اور کوئی سہارا نہ دیا ، ان کا ایک ہی بیٹا  تھا جسے عمر فاروق کہتے تھے  جو ساری زندگی بے روزگار رہا ، شاید اسے بھی قاضی کے پختہ اصولوں کی سزا ملی ۔۔ 

آپ محنت کشوں کے لئے  خون جگر سے بھگو بھگو کر اپنے الفاظ صفحہ قرطاس پر بکھیرا کرتے تھے ۔۔

ان کا ایک مشہور قطعہ آج بھی محنت کشوں کی عظمت کی گواھی دیتا ھے۔۔۔وہ کہتے تھے کہ  

یہ چمنی کا دھواں تیری آہوں کا امیں ھے ۔۔

افسوس مگر محنت کے لٹیروں کو نہیں ہے ۔۔

قاضی شب ظلمت کی ردا پھاڑ کے دیکھو ۔۔

ابھرے گا سویرا مجھ کو یہ یقیں ھے ۔۔





اور ایک جگہ مہنگائی کے حوالے سے یوں گویا ھوئے۔۔۔۔


کیا روشنی ھوئی، کہ اجالا نہ مل سکا۔۔

غربت کو بھی دیس  نکالا نہ مل سکا ۔۔ ۔۔

یوں کھو گئےھیں منزل مقصود کے نشاں۔۔۔ 

تاریخ میں بھی کوئی حوالہ نہ مل سکا ۔۔

اسی طرح  کسی عید قرباں پر بھی ان کا ایک نایاب قطعہ لکھا 

اور یوں گویا ہوئے 


امن کی جستجو ہے اور سر پر۔۔۔

۔گھنٹیاں بج رہی ہیں خطرے کی

اور عید قرباں بھی آ پہنچی ہے

اپنی قربانی کروں کہ بکرے کی  


بحرحال ایک بات  روز روشن کی طرح عیاں رھے گی کہ للہ کے اس عظیم مزدور رہنما  نے نہ تو کوئی جاگیر بنائی نہ اس کے پاس کوئی فور ڈور گاڑی تھی  نہ یہ کسی  بنگلے یاکوٹھی کا مالک نکلا   اور نہ ہی اس نے کسی فائیو سٹار ھوٹل کے کھانوں کے کبھی   ذائقہ چکھا ،اور تو اور فیکٹری کے کسی ٹھیکہ میں  بھی ان کا نام  کہیں  درج  نہ دیکھا گیا  ۔۔ آخری ایام میں اکھڑی   اکھڑی سانسوں کے دوران  بھی  اپنے مزدور بھائیوں اور بچوں  کے مسائل کے خاتمے کے لئے قلمی جہاد میں مصروف رھے۔ ۔۔۔۔بھلے ہی کوئی پارٹی ،محنت کش یا ان کے رہنما ،قاضی مرحوم کی محنت کشوں  کے  حقوق  اور پارٹی مفادات کے لئے  کی گئی جنگ کے گزرے لمحات بھلا دیں۔ لیکن  محنت کشوں کے حقوق کے اس عظیم کردار کو ہمیشہ   بابائے محنت کشاں کے نام سے  یاد رکھا جائے گا  اور تاریخ کے اوراق میں  ان کا نام   سنہری حروف میں  جگمگاتا رہے گا۔۔ ۔۔

Monday, June 26, 2023

ڈنڈوت آر ایس کا بچہ اپنے رب کو خط لکھتے ہوئے

 
ڈنڈوٹ آر ایس کے ایک معصوم بچے کا اللہ میاں کے نام خط"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تحریر !اورنگزیب عالمگیر ۔۔۔۔۔۔۔


۔شام کا اندھیرا گہرا ھو رہا تھا ، میں گراونڈ سے اٹھ کر گھر کو ہو لیتا ھوں راستے میں ایک گلی سے گزرتے ہوئے ایک گھر سے ایک معصوم بچے کے رونے کی آواز آتی ھے۔ مارے تجسس کے میرے قدم رک جاتے ھیں اور میں دروازے کے قریب چلا جاتا ہوں۔آوازیں قدرے واضح ھو جاتی ھیں ۔۔بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ھے کہ ابو کہاں ہیں آپ بتاتی کیوں نہیں ۔۔کتنے ماہ ہو گئے ان کو گھر سے گئے اور وہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آئے ۔۔بچہ سسکتے ھوئے اپنی ماں سے پوچھتا ھے ماں اسے دلاسہ دیتی ھے اور کہتی ھے کہ بیٹا تمہارے ابو اللہ میاں کے پاس گئے ھیں 


ڈنڈوت آر ایس کا بچہ اپنے رب کو خط لکھتے ہوئے

 "ڈنڈوٹ آر ایس کے ایک معصوم بچے کا اللہ میاں کے نام خط"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر !اورنگزیب عالمگیر ۔۔۔۔۔۔۔





۔شام کا اندھیرا گہرا ھو رہا تھا ، میں  گراونڈ سے اٹھ کر گھر کو ہو لیتا ھوں راستے میں ایک گلی سے گزرتے ہوئے ایک گھر سے ایک معصوم بچے کے رونے کی آواز آتی ھے۔ مارے تجسس کے میرے قدم رک جاتے ھیں اور میں دروازے کے قریب چلا جاتا ہوں۔آوازیں قدرے واضح ھو جاتی ھیں ۔۔بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ھے کہ ابو کہاں ہیں آپ بتاتی کیوں نہیں ۔۔کتنے ماہ ہو گئے ان کو گھر سے گئے اور وہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آئے ۔۔بچہ سسکتے ھوئے اپنی ماں سے پوچھتا ھے ماں اسے دلاسہ دیتی ھے اور کہتی ھے کہ بیٹا تمہارے ابو اللہ میاں کے پاس گئے ھیں 

بیٹا سوال کرتا ھے کہ وہ وہاں کیا کرنے گئے ہیں، ماں کو اور کچھ نہیں سوجھتا تو بچے کو ٹالنے کے لئے یہی کہ دیتی ھے کہ وہ اللہ میاں کے پاس  ملازمت کرنے گئے ھیں ۔۔۔تو پھر وہ تنخواہ کیوں نہیں بجھواتے ؟؟ بچہ ھچکیاں لیتے ھوئے کہتا ھے ماں ٹھٹک کر خاموش ھو جاتی ھے اس کے پاس کوئی جواب نہیں ھوتا ۔ماں آپ خاموش کیوں ھو ؟ بولتی کیوں نہیں ۔امی میرے دوست بھی گزشتہ عید پر بہت اداس تھے وہ مجھے بتا رھے تھے اس دفعہ  ابو نے نہ تو ھمیں کپڑے سلوا کر دیئے اور نہ ھی جوتے خرید کر ۔۔۔اور پتہ ھے امی انہوں نے عید پر نمکین چاول بنائے تھے اور وہ بھی روکھے پھیکے ،وہ کہ رھے تھے کہ ھمارے ابو کو ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کے مالکان نہ تو ان کی پچھلی  تنخواھیں  دے رھے ہیں  اور نہ ان کی جگہ پر بھرتی کئے گئے بچوں کو فیکٹری میں روزگار ۔۔۔

امی بہت ظالم ھیں یہ فیکٹری مالکان کیوں نہیں دیتے ان کو تنخواھیں یا روزگار  ؟؟؟ 

پھر ان لوگوں کو اللہ میاں کیوں نہیں اپنے پاس بلا لیتے ؟؟ 

ماں اپنے بچے کو دکھ بھر لہجے میں روتے ہوئے کہتی ھے ایسے نہ کہو ۔۔


اچانک بچے کو کوئی خیال آتا ھے  اور وہ اٹھتا ھے چارپائی کے چر چرانے کی آواز آتی ھے ۔ماں اس سے پوچھتی ھے کیا کرنے جا رھے ھو ؟ وہ بچہ اک عزم سے کہتا ھے کہ میں اللہ میاں کو ایک خط لکھنے جا رھا ھوں جس میں اپنے موجودہ حالات سے ان کو آگاہ کروں گا ۔۔کیونکہ ابو جان کی تنخواھیں نہ بجھوانے کی وجہ سے ۔۔۔امی جان آپ کو بہت محنت کرنا پڑ رھی ہے سارا دن لوگوں کے برتن دہو دہو کر اور پھر رات کو کپڑے سی سی کر اب تو بیمار بھی رہنے لگی ہو۔ امی جان مجھے آپ کی یہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ھے ۔پھر۔۔۔

کاغذوں کی کھسر پھسر کی آواز آتی ھے ۔میری آنکھوں میں اک غبار اور سینے میں درد کی لہر سی اٹھتی  محسوس ھوتی ھے مزید وھاں ٹھہرنے کی ھمت نہیں پاتا اور بجھے دل کے ساتھ گھر کا رخ کر لیتا ہوں ۔ساری رات سخت بے چینی میں کٹتی ھے صبح جب کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتا ہوں تو سامنے ایک معصوم سے بچے کو اپنا منتظر پاتا ھوں اس کے ہاتھ میں ایک ڈاک لفافہ بھی ہوتا ھے ۔۔انکل یہ خط تو پوسٹ کر دیجئے گا ۔میں لفافہ پکڑ کر آگے بڑھتا ہوں لفافہ ایک طرف سے کھلا ھوتا ھے اچانک میری نگاہ لفافے پر لکھے ایڈریس پر پڑتی ھے تو میں چونک جاتا ہوں ٹانگوں میں گویا جان نہیں رہتی ۔مڑ کر دیکھتا ہوں تو بچہ قریب ھی کھڑا ھوتا ہے ۔۔انکل مجھے پتہ ہے کہ آپ ڈاکخانے جاتے رہتے ھیں اسی وجہ سے یہ خط آپ کو دے رہا ہوں پلیز میرا یہ خط ضرور پوسٹ کر دیجئے گا راستے میں مجھے ایک شخص کہ رہا تھا کہ تمہارا یہ خط کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔۔بہت ہی زیادہ۔۔یہ کہ کر وہ بڑی آس بھری نگاھوں سے میری دیکھتا ھے میرا دل کٹ کر رہ جاتا ہے اور میں اس سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارا یہ خط ضرور منزل مقصود پر پہنچانے کی کوشش کروں گا وہ بچہ مطمعین ہو کر واپس گھر کو چلا جاتا ھے ۔۔جب کہ میں کبھی آسماں اور کبھی خط کی طرف دیکھتا ھوں خط کے اوپر ایڈریس کچھ یوں لکھا ھوتا ھے ۔

اللہ میاں کے پاس میرے ابو ملازم ہیں یہ خط ان کو ملے ۔۔

کانپتے ہاتھوں سے خط نکال کر پڑھتا ہوں خط کا متن کچھ اس طرح ھوتا ہے ۔۔۔


 پیارے اللہ میاں 

آداب ! امید ھے آپ بخیریت ھوں گے ۔۔لیکن میں اور میری ماں یہاں بہت دکھ اور تکلیف میں ھیں سنا ھے کہ آپ بہت مہربان اور  رحمدل ہیں ۔۔میرے ابو کافی عرصہ سے آپ کے پاس ملازمت کرنے گئے ہیں  لیکن آپ نے ابھی تک ان کی ایک بھی تنخواہ ہمیں نہیں بجھوائی ۔۔جب سے میرے ابو آپ کے پاس ملازم بھرتی ھوئے ہیں تب سے میری امی جان کو سخت محنت کرنا پڑ رھی ھے بیچاری سارا سارا دن لوگوں کے برتن دھوتی رھتی ھے اور رات کو جب بھی آنکھ کھلتی ھے اسے مشین چلاتے ہی دیکھتا ہوں لوگوں کے کپڑے سی سی کر اور برتن دھو دھو کر اپنے گھر کے چولہے کو جلانے کی ناکام کوشش کرتی ہے اور اب تو بیمار بھی رہنے لگی ہے  ظالموں نے بجلی کے ساتھ ساتھ کالونی کی گیس اور پانی  بھی کاٹ دیا ہے  

 میں جب بھی سکول جاتا ہوں تو ماسٹر جی مجھے اکثر کہتے ھیں  کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ھیں ۔

لیکن پیارے اللہ میاں،

قوم کا یہ مستقبل تو ڈنڈوت آر ایس کے ویرانوں میں کانٹوں اور جھاڑیوں سے الجھا پڑا ھے ۔۔لیکن کسی کو بھی خبر نہیں ۔۔پلیز میرے ابو کی تنخواھیں جلد از جلد بجھوا دیں تاکہ گھر کا اناج اور راشن پانی خریدنے کے علاوہ امی جان کی دوائیں بھی خرید سکوں کہیں ان فیکٹری مالکان کی طرح نہ کیجئے گا ورنہ دوسری عید بھی قریب آ گئی ہے اور جن کے ابو آپ کے پاس ملازم نہیں وہ تو پھر بھی روکھے پھیکے چاول کھا لیں گے لیکن میں اور میری ماں اس عید پر بھی بھوکے رہ جائیں گے ۔۔اب اجازت دیجئے 

واسلام

 ایک مظلوم بچہ

  ڈنڈوت آر ایس ضلع جہلم پاکستان ۔۔

میں خط کو افسردہ دل کے ساتھ لفافے میں بند کرتا ھوں اور سوچتا ھوں کہ میں نے خط تو پکڑ لیا ھے لیکن یہ خط اپنے رب تک پہنچاوں گا کیسے ؟؟ دل میں اک ہوک سی اٹھتی ھے اور خیال آتا ھے کہ میں وہ پوسٹ ماسٹر تو کبھی  نہیں بن سکتا جو اپنی آدھی تنخواہ ایسے ہی ایک خط لکھنے والے بچے کے گھر چپکے سے  بجھوا دیا کرتا تھا ۔۔میں تو خود ایک معمولی مزدور ٹائپ انسان ھوں ۔۔بقول اس شخص کے جو معصوم بچے کو راستے میں ملتا ھے اور کہتا ہے کہ  یہ خط منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ھے کیونکہ فاصلہ بہت زیادہ ھے ۔۔پھر میں یہ خط کیسےپہنچا پاوں گا؟؟  ۔۔فاصلہ تو واقعی بہت زیادہ ہے اتنا زیادہ کہ آدمی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔پھر اچانک اک خیال بجلی کے کوندے کی طرح ذھہن میں لپکتا ھے ۔۔کہ نہیں اللہ پاک تو شہ رگ کے بھی قریب ہیں ۔۔بس چند ھی لمحوں میں یہ خط ان تک پہنچاوں گا ۔۔۔۔اور بے اختیار سجدہ میں گر جاتا ہوں ۔۔