Apna Punjab


A blog about Pakistan, Punjab Cultural news, Pakistan Punjab funny latest photos &mp3 and all about country In Apna Punjab By Muhammad Ehsan


Monday, June 26, 2023

ڈنڈوت آر ایس کا بچہ اپنے رب کو خط لکھتے ہوئے

 "ڈنڈوٹ آر ایس کے ایک معصوم بچے کا اللہ میاں کے نام خط"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر !اورنگزیب عالمگیر ۔۔۔۔۔۔۔





۔شام کا اندھیرا گہرا ھو رہا تھا ، میں  گراونڈ سے اٹھ کر گھر کو ہو لیتا ھوں راستے میں ایک گلی سے گزرتے ہوئے ایک گھر سے ایک معصوم بچے کے رونے کی آواز آتی ھے۔ مارے تجسس کے میرے قدم رک جاتے ھیں اور میں دروازے کے قریب چلا جاتا ہوں۔آوازیں قدرے واضح ھو جاتی ھیں ۔۔بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ھے کہ ابو کہاں ہیں آپ بتاتی کیوں نہیں ۔۔کتنے ماہ ہو گئے ان کو گھر سے گئے اور وہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آئے ۔۔بچہ سسکتے ھوئے اپنی ماں سے پوچھتا ھے ماں اسے دلاسہ دیتی ھے اور کہتی ھے کہ بیٹا تمہارے ابو اللہ میاں کے پاس گئے ھیں 

بیٹا سوال کرتا ھے کہ وہ وہاں کیا کرنے گئے ہیں، ماں کو اور کچھ نہیں سوجھتا تو بچے کو ٹالنے کے لئے یہی کہ دیتی ھے کہ وہ اللہ میاں کے پاس  ملازمت کرنے گئے ھیں ۔۔۔تو پھر وہ تنخواہ کیوں نہیں بجھواتے ؟؟ بچہ ھچکیاں لیتے ھوئے کہتا ھے ماں ٹھٹک کر خاموش ھو جاتی ھے اس کے پاس کوئی جواب نہیں ھوتا ۔ماں آپ خاموش کیوں ھو ؟ بولتی کیوں نہیں ۔امی میرے دوست بھی گزشتہ عید پر بہت اداس تھے وہ مجھے بتا رھے تھے اس دفعہ  ابو نے نہ تو ھمیں کپڑے سلوا کر دیئے اور نہ ھی جوتے خرید کر ۔۔۔اور پتہ ھے امی انہوں نے عید پر نمکین چاول بنائے تھے اور وہ بھی روکھے پھیکے ،وہ کہ رھے تھے کہ ھمارے ابو کو ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کے مالکان نہ تو ان کی پچھلی  تنخواھیں  دے رھے ہیں  اور نہ ان کی جگہ پر بھرتی کئے گئے بچوں کو فیکٹری میں روزگار ۔۔۔

امی بہت ظالم ھیں یہ فیکٹری مالکان کیوں نہیں دیتے ان کو تنخواھیں یا روزگار  ؟؟؟ 

پھر ان لوگوں کو اللہ میاں کیوں نہیں اپنے پاس بلا لیتے ؟؟ 

ماں اپنے بچے کو دکھ بھر لہجے میں روتے ہوئے کہتی ھے ایسے نہ کہو ۔۔


اچانک بچے کو کوئی خیال آتا ھے  اور وہ اٹھتا ھے چارپائی کے چر چرانے کی آواز آتی ھے ۔ماں اس سے پوچھتی ھے کیا کرنے جا رھے ھو ؟ وہ بچہ اک عزم سے کہتا ھے کہ میں اللہ میاں کو ایک خط لکھنے جا رھا ھوں جس میں اپنے موجودہ حالات سے ان کو آگاہ کروں گا ۔۔کیونکہ ابو جان کی تنخواھیں نہ بجھوانے کی وجہ سے ۔۔۔امی جان آپ کو بہت محنت کرنا پڑ رھی ہے سارا دن لوگوں کے برتن دہو دہو کر اور پھر رات کو کپڑے سی سی کر اب تو بیمار بھی رہنے لگی ہو۔ امی جان مجھے آپ کی یہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ھے ۔پھر۔۔۔

کاغذوں کی کھسر پھسر کی آواز آتی ھے ۔میری آنکھوں میں اک غبار اور سینے میں درد کی لہر سی اٹھتی  محسوس ھوتی ھے مزید وھاں ٹھہرنے کی ھمت نہیں پاتا اور بجھے دل کے ساتھ گھر کا رخ کر لیتا ہوں ۔ساری رات سخت بے چینی میں کٹتی ھے صبح جب کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتا ہوں تو سامنے ایک معصوم سے بچے کو اپنا منتظر پاتا ھوں اس کے ہاتھ میں ایک ڈاک لفافہ بھی ہوتا ھے ۔۔انکل یہ خط تو پوسٹ کر دیجئے گا ۔میں لفافہ پکڑ کر آگے بڑھتا ہوں لفافہ ایک طرف سے کھلا ھوتا ھے اچانک میری نگاہ لفافے پر لکھے ایڈریس پر پڑتی ھے تو میں چونک جاتا ہوں ٹانگوں میں گویا جان نہیں رہتی ۔مڑ کر دیکھتا ہوں تو بچہ قریب ھی کھڑا ھوتا ہے ۔۔انکل مجھے پتہ ہے کہ آپ ڈاکخانے جاتے رہتے ھیں اسی وجہ سے یہ خط آپ کو دے رہا ہوں پلیز میرا یہ خط ضرور پوسٹ کر دیجئے گا راستے میں مجھے ایک شخص کہ رہا تھا کہ تمہارا یہ خط کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔۔بہت ہی زیادہ۔۔یہ کہ کر وہ بڑی آس بھری نگاھوں سے میری دیکھتا ھے میرا دل کٹ کر رہ جاتا ہے اور میں اس سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارا یہ خط ضرور منزل مقصود پر پہنچانے کی کوشش کروں گا وہ بچہ مطمعین ہو کر واپس گھر کو چلا جاتا ھے ۔۔جب کہ میں کبھی آسماں اور کبھی خط کی طرف دیکھتا ھوں خط کے اوپر ایڈریس کچھ یوں لکھا ھوتا ھے ۔

اللہ میاں کے پاس میرے ابو ملازم ہیں یہ خط ان کو ملے ۔۔

کانپتے ہاتھوں سے خط نکال کر پڑھتا ہوں خط کا متن کچھ اس طرح ھوتا ہے ۔۔۔


 پیارے اللہ میاں 

آداب ! امید ھے آپ بخیریت ھوں گے ۔۔لیکن میں اور میری ماں یہاں بہت دکھ اور تکلیف میں ھیں سنا ھے کہ آپ بہت مہربان اور  رحمدل ہیں ۔۔میرے ابو کافی عرصہ سے آپ کے پاس ملازمت کرنے گئے ہیں  لیکن آپ نے ابھی تک ان کی ایک بھی تنخواہ ہمیں نہیں بجھوائی ۔۔جب سے میرے ابو آپ کے پاس ملازم بھرتی ھوئے ہیں تب سے میری امی جان کو سخت محنت کرنا پڑ رھی ھے بیچاری سارا سارا دن لوگوں کے برتن دھوتی رھتی ھے اور رات کو جب بھی آنکھ کھلتی ھے اسے مشین چلاتے ہی دیکھتا ہوں لوگوں کے کپڑے سی سی کر اور برتن دھو دھو کر اپنے گھر کے چولہے کو جلانے کی ناکام کوشش کرتی ہے اور اب تو بیمار بھی رہنے لگی ہے  ظالموں نے بجلی کے ساتھ ساتھ کالونی کی گیس اور پانی  بھی کاٹ دیا ہے  

 میں جب بھی سکول جاتا ہوں تو ماسٹر جی مجھے اکثر کہتے ھیں  کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ھیں ۔

لیکن پیارے اللہ میاں،

قوم کا یہ مستقبل تو ڈنڈوت آر ایس کے ویرانوں میں کانٹوں اور جھاڑیوں سے الجھا پڑا ھے ۔۔لیکن کسی کو بھی خبر نہیں ۔۔پلیز میرے ابو کی تنخواھیں جلد از جلد بجھوا دیں تاکہ گھر کا اناج اور راشن پانی خریدنے کے علاوہ امی جان کی دوائیں بھی خرید سکوں کہیں ان فیکٹری مالکان کی طرح نہ کیجئے گا ورنہ دوسری عید بھی قریب آ گئی ہے اور جن کے ابو آپ کے پاس ملازم نہیں وہ تو پھر بھی روکھے پھیکے چاول کھا لیں گے لیکن میں اور میری ماں اس عید پر بھی بھوکے رہ جائیں گے ۔۔اب اجازت دیجئے 

واسلام

 ایک مظلوم بچہ

  ڈنڈوت آر ایس ضلع جہلم پاکستان ۔۔

میں خط کو افسردہ دل کے ساتھ لفافے میں بند کرتا ھوں اور سوچتا ھوں کہ میں نے خط تو پکڑ لیا ھے لیکن یہ خط اپنے رب تک پہنچاوں گا کیسے ؟؟ دل میں اک ہوک سی اٹھتی ھے اور خیال آتا ھے کہ میں وہ پوسٹ ماسٹر تو کبھی  نہیں بن سکتا جو اپنی آدھی تنخواہ ایسے ہی ایک خط لکھنے والے بچے کے گھر چپکے سے  بجھوا دیا کرتا تھا ۔۔میں تو خود ایک معمولی مزدور ٹائپ انسان ھوں ۔۔بقول اس شخص کے جو معصوم بچے کو راستے میں ملتا ھے اور کہتا ہے کہ  یہ خط منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ھے کیونکہ فاصلہ بہت زیادہ ھے ۔۔پھر میں یہ خط کیسےپہنچا پاوں گا؟؟  ۔۔فاصلہ تو واقعی بہت زیادہ ہے اتنا زیادہ کہ آدمی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔پھر اچانک اک خیال بجلی کے کوندے کی طرح ذھہن میں لپکتا ھے ۔۔کہ نہیں اللہ پاک تو شہ رگ کے بھی قریب ہیں ۔۔بس چند ھی لمحوں میں یہ خط ان تک پہنچاوں گا ۔۔۔۔اور بے اختیار سجدہ میں گر جاتا ہوں ۔۔

0 comments:

Post a Comment